سوماٹرا: دوسرا جھٹکا، درجنوں ہلاک

انڈونیشیا کے جزیرے سُوماٹرا میں جہاں بدھ کو زلزلے سے درجنوں افراد ہلاک ہوگئے تھے، جمعرات کو ایک بار پھر زلزلہ آیا ہے اور خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد دو سو سے متجاوز ہے۔
گزشتہ روز کے زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر سات اعشاریہ چھ تھی جبکہ آج آنے والے زلزلے کی شدت چھ اعشاریہ آٹھ بتائی گئی ہے۔
گزشتہ روز انڈونیشیا کے حکام نے پچھتر افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد دو سو سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
گزشتہ رات بحرالکاہل میں بھی زلزلہ آیا تھا اور اس سے شروع ہونے والی سونامی سے مجمع الجزائر میں سوماوا اور امریکی سوماوا کے جزائر میں ایک سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
انڈونیشیا میں حکام اس خدشے کا امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ ہلاک شدگان کی تعداد پچھتر سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سی عمارتیں جن میں دو ہسپتال بھی شامل ہیں، تباہ ہو گئے ہیں۔
انڈونیشیا کے جزیرے سوماٹرا میں زلزلے کے بعد بحر الکاہل میں سونامی سے آگاہ کرنے والے سینٹر نے سونامی کی وارننگ جاری کی تھی جسے بعد میں واپس لے لیا گیا۔
پیڈنگ شہر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہاں سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے۔
ادھر سوماوا اور امریکی سوماوا میں زلزلے کے بعد امدادی کارراوائیاں جاری ہیں۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد دیہات میں مدد کے انتظار میں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈونیشیا کے نائب صدر جوسف کلا نے بتایا کہ سوماٹرا کے زلزلے میں ہلاک شدگان کی تعداد تیزی سے بڑھنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے اے ایف پی کو ٹیلیفون پر بتایا: ’ہمیں متاثرین کے نام پتے نہیں معلوم نہیں۔ اندھیرے میں حالات کا تفیصلی علم مشکل ہے۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ لوگ ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں، ہوٹل تباہ ہو چکے ہیں، سکول کی عمارتیں منہدم ہیں، گھر ملیا میٹ ہو چکے ہیں اور بجلی نہیں ہے۔‘
انڈونیشیا کے وزیرِ صحت نے کہا ہے کہ حالیہ برسوں میں یہ ایک بڑا زلزلہ ہے۔ ’یہ سنہ دو ہزار چھ میں آنے والے زلزلے سے بھی زیادہ مہلک ہو سکتا ہے۔ اس زلزلے میں تین ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔‘
مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ شہر کے ہوائی اڈے کی چھت بھی گر گئی ہے۔
زلزلے کے بعد شدید بارش سے بھی امدادی کاموں میں رکاوٹ پڑ رہی ہے۔






















