اوباما کا نوبل اعزاز ’نیک ارادوں کو سلام ہے‘

عہدہ صدارت سنبھالنے کے نو ماہ بعد امریکی صدر براک اوباما کو امن کا نوبل انعام دیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنعہدہ صدارت سنبھالنے کے نو ماہ بعد امریکی صدر براک اوباما کو امن کا نوبل انعام دیا گیا ہے
    • مصنف, عامر احمد خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو سروس، لندن

امریکی صدر براک اوباما نے اس سال جنوری میں اقتدار سنبھالا تو پوری دنیا کا حال ایسا تھا کہ اسے فیض احمد فیض کے اس شعر میں ہی سمیٹا جا سکتا ہے جس میں رات ڈھلے محبوب کی یاد آنے پر ویرانے میں چپکے سے بہار آتی ہے، صحراؤں میں ہولے سے باد نسیم چلتی ہے اور بیمار کو بے وجہ قرار آ جاتا ہے۔

یقیناً اس کی ایک وجہ تو سابق امریکی صدر جارج بش کا جانا تھا۔ لیکن شاید اس سے کہیں بڑی وجہ براک اوباما کے ارادوں کی گھن گرج تھی جو امریکہ کے مغربی ساحلوں سے لیکر وسطی ایشیا کے کوہ قاف تک گونج رہی تھی۔

اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا بحران ہو جس کا حل تلاش کرنے کا عزم براک اوباما نے نہ کیا ہو۔

اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں درپیش چلینجز ایک حقیقت بھی ہیں اور بے شمار بھی۔ ان سے فوری نمٹنا آسان نہ ہو گا۔ لیکن امریکہ یہ جان لے کہ ہم ان کا مقابلہ کریں گے۔‘

بعد میں امریکہ کے اقتصادی بحران پر انہوں نہ کہا کہ ’ہم جہاں بھی دیکھتے ہیں وہیں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ملکی معیشت فوری اور دلیرانہ اقدام کی طلب گار ہے۔ اور ہم ایسا ہی کریں گے۔‘

’جیسے جیسے دنیا سکڑ رہی ہے ہماری باہمی انسانیت اور ابھرے گی اور امریکہ کو امن کے ایک نئے دور کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ مسلمان دنیا کے ساتھ ہمیں ایک نیا راستہ تلاش کرنا ہو گا جس کی بنیاد ہو گی باہمی مفاد اور باہمی احترام۔‘

اور مشرق وسطٰی کے حالات پر براک اوباما نے کہا کہ ’جب آپ عام لوگوں کو خواہ وہ فلسطینی ہوں یا اسرائیلی تکلیف میں یا نقصان اٹھاتے دیکھتے ہیں تو آپ کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ دیکھ کر ان مسائل کا حل نکالنے کا میرا عزم اور مضبوط ہو جاتا ہے کہ کئی دھائیوں سے موجود اس جمود کو میں توڑ ڈالوں۔‘

اسی طرح ایران کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے انتخابی مہم میں بھی یہی کہا تھا کہ ایران ہمارے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہو گا۔ وہاں صورتحال ایسی ہے کہ نہ صرف ایران حماس اور حزب اللہ کے ذریعے دہشت گردی پھیلا رہا ہے بلکہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بھی بنا رہا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ ہم ان سے بات چیت کا عمل جاری رکھیں اور ہمیں اس سلسلے میں بہت جلد کچھ کرنا ہو گا۔‘

اور دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’ہم ذمہ داری کے ساتھ عراق کو اس کے عوام پر چھوڑیں گے اور افغانستان میں امن قائم کریں گے۔ ہم دوستوں اور دشمنوں سے مل کر جوہری ہتھیاروں کے خطرے کو کم کرنے کہ لیے انتھک محنت کریں گے۔ اور عالمی حدت کے جن پر بھی قابو پائیں گے۔‘

’وہ جو سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مقاصد خوف اور دہشتگردی پھیلا کر حاصل کر سکتے ہیں، ان سے میں کہنا چاہوں گا کہ ہمارا عزم بہت مضبوط ہے۔ اسے توڑا نہیں جا سکتا۔ تم ہم سے زیادہ نہیں جی سکتے اور ہم تمہیں ہرا کر چھوڑیں گے۔‘

شاید انہی وعدوں اور ارادوں کی بنا عہدہ صدارت سنبھالنے کے نو ماہ بعد امریکی صدر براک اوباما کو امن کا نوبل انعام دیا گیا ہے۔

بہت سے لوگوں کے ذہن میں اب یہ سوال ابھر رہا ہے کہ براک اوباما کے وعدوں پر اس عرصے میں عمل کتنا ہوا ۔ یعنی ان کی انتخابی جیت پر بیمار کو آنے والے قرار کی کوئی وجہ تھی یا یہ سب شاعری ہی ہے۔