’دوبارہ انتخابات ہی مسئلے کا حل‘

حامد کرزئئ
،تصویر کا کیپشنہمارے خیال میں انتخابات کے دوبارہ انعقاد کی ضرورت نہیں: کرزئی کے ترجمان

امریکہ میں افغانستان کے سفیر سید طیب جواد کا کہنا ہے کہ ملک میں دوبارہ انتخابات ہی صدارتی انتخابات کے حوالے سے جاری تنازعہ حل ہو سکتا ہے اور یہ عمل ایک ماہ کے اندر اندر ہو جانے چاہیئں۔

یاہم افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان نے اس سے قبل کہا تھا کہ دوبارہ انتخابات نہیں ہوں گے۔

امریکی انسٹیٹیوٹ آف پیِس میں خطاب کے دوران سید طیب جواد نے کہا کہ دوبارہ انتخابات ہی سے اس تنازعے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ ’اور اگر یہی آپشن ہے تو پھر سب کو مل کر کام کرنا چاہیے۔‘ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق دو ہفتوں کے اندر انتخابات ہونے چاہیئں لیکن یہ ممکن نہیں ہے۔ چار ہفتوں میں دوبارہ انتخابات کو ممکن بنایا جا سکتا ہے کیونکہ اس کے بعد افغانستان کے کچھ حصے شدید سردی لی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ ’اگر یہ انتخابات بہار تک ملتوی کیے گئے تو ایک بحران پیدا ہو جائے گا اور اس سے افغانستان کے دنایا کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں بھی مسائل پیدا ہو جائیں گے۔‘

طیئب جواد کے بیان سے قبل حامد کرزئی کے ترجمان وحید عمر کا کہنا تھا ’ہمارے خیال میں انتخابات کے دوبارہ انعقاد کی ضرورت نہیں۔‘

انتخابی بے ضابطگیوں کے زیادہ تر الزامات صدر حامد کرزئی اور ان کے حامیوں کے خلاف لگایا ہے۔یورپی یونین کے انتخابی مبصرین نے کہا کہ پندرہ لاکھ ووٹ اگست میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بوگس تھے۔انہوں نے کہا کہ گیارہ لاکھ ووٹ جو صدر حامد کرزئی کو ڈالے گئے مشکوک تھے۔

صدارتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات جاری ہیں اور اس ضمن میں سرکاری اعلان اگلے ہفتے تک متوقع نہیں ہے۔صدر حامد کرزئی کو دوسرے مرحلے کے اانتخاب کے لیے کہا جا سکتا ہے اور ڈاکٹر عبداللہ اس مرحلے میں عبداللہ عبد اللہ ان کے مدمقابل ہوں گے۔