ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیےچندہ مہم

حکومت پاکستان نےعافیہ صدیقی کےمقدمے کی پیروی کے لیےدو امریکی وکیلوں کو پندرہ لاکھ پاؤنڈ کی رقم ادا کی ہے
،تصویر کا کیپشنحکومت پاکستان نےعافیہ صدیقی کےمقدمے کی پیروی کے لیےدو امریکی وکیلوں کو پندرہ لاکھ پاؤنڈ کی رقم ادا کی ہے

امریکہ میں قید پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی قانونی امداد کےلیے چندہ جمع کرنےکےغرض سے نیو یارک میں ایک تقریب منعقد ہوئی ہے۔

پیر کی شام کو نیویارک میں بروکلین میں ’لٹل پاکستان‘ کہلانےوالےعلاقے کونی آئی لینڈ میں پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگل فنڈ آف امریکہ کی جانب سےعافیہ صدیقی کےلیے قانونی مدد کےلیے ’فنڈ ریزنگ‘ کی تقریب میں عافیہ صدیقی کے بھائي محمد صدیقی سمیت دیگر شخصیات نے خطاب کیا۔

تقریب میں سامعین سے زیادہ مقررین کی تعداد زیادہ تھی اور پاکستان کمیونٹی کی شرکت بہت کم تھی۔ تقریب میں پاکستانی سامعین کی تعداد کم تھی۔پاکستانی رائٹراشرف میاں کے مطابق امریکہ میں مقیم اکثر پاکستانیوں نے ڈاکٹر عافیہ کے معاملے میں محتاظ رویہ اپنا رکھا ہوا ہے۔

ان میں برطانوی صحافی ایوان رڈلی، قیدیوں کے لیے کام کرنے والی برطانوی تنظیم ’کیجڈ پرزنرز‘ کے سابق ڈائریکٹر صغیر حسین، انٹرنیشنل جسٹس نیٹ اور انسانی حقوق کی معروف وکیل ٹینا فوسٹر اور مسلم لیگل فنڈ کے مک خلیل ، پاکستان تحریک انصاف امریکہ میں سیکرٹری جنرل اور تقریب کے ایک اہم منتظم عاصم باجوہ کے علاوہ پاکستانی کمیونٹی کے معروف رہنما ڈاکٹر محمود عالم بھی شامل تھے۔

برطانوی صحافی ایوان رِڈلی نے تقریر کرتے ہوئے امریکی عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’مِکی ماؤس جوڈیشل سسٹم‘ اور عافیہ صدیقی کے کیس کو’مکی ماؤس ٹرائل‘ قرار دیا۔

ایوان رِڈلی افغانستان میں طالبان حکومت کے دنوں میں طالبان کی حراست میں رہی تھیں جس کے بعد وہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ انہوں نے اپنی تقریر طالبان کے رویے کی تعریف کی۔

انسانی حقوق کی معروف وکیل ٹینا فوسٹر نے تقریب میں اس خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدر اوباما کے گوانتانامو بے جیسے قید خانے کو بند کرنے کے اعلان کے باوجود امریکہ میں پرانی بش انتظامیہ کی پالیسی جاری رکھی جا رہی ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگل فنڈ آف امریکہ نامی تنظیم اس وقت عافیہ صدیقی کے قانونی دفاع کے نام پر چندہ جمع کر رہی ہے جب پاکستانی حکومت ان کے دفاع کے لیے بیس لاکھ ڈالر کا اعلان کرچکی ہے جس میں پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ پندرہ لاکھ ڈالر عافیہ صدیقی کے دفاع کے لیے تین وکلاء کو ادا کیے جا چکے ہیں۔ تاہم عافیہ صدیقی نےاپنےمقدمے کی گزشتہ سماعت کے دوران اپنے ان تین دفاع کے وکلاء کو بطور اپنے وکیل ماننے سے انکار کردیا تھا۔

مسلم لیگل فنڈ آف امریکہ کے خلیل میک نے تقریب میں اپنے خطاب میں کہا کہ ان کی تنظیم ڈاکٹر عافیہ کےحق اور مقدمے بابت آگاہی پھیلانے کا کام کر رہی ہے اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی ہی تنظیم نے پاکستانی حکومت کو ڈاکٹر عافیہ کے مقدمے میں ان کے دفاع کےلیے فنڈ فراہم کرنے پر آمادہ کیا تھا۔

عافیہ صدیقی کے امریکہ میں رہنے والے بھائي محمد صدیقی نے کہا کہ ان کی توقعات کے برخلاف پاکستان اور پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی کھل کر حمایت کےلیےآگے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عافیہ صدیقی کو آزاد کروا کر پاکستان کی کھوئی ہوئی عزت آزاد کروائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ عافیہ صدیقی کے بارے میں وہ طویل عرصے تک سمجھتے رہے کہ وہ مرچکی ہیں اور یہی وہ ان کے بچوں کے بارے میں سمجھتے رہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ان کا ایک بیٹا واپس آیا ہے تو دوسرے تاحال دو بچوں کے بارے میں بھی پتہ لگنا چاہیے۔