افغانستان میں آٹھ امریکی فوجی ہلاک

جنوبی افغانستان میں منگل کے روز ہونے والے مختلف بم حملوں میں آٹھ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونےوالوں میں میں ایک افغان شہری بھی ہلاک ہوا ہے۔
افغانستان میں گزشتہ اٹھ سال سے جاری جنگ کے دوران اکتوبر 2009 کا مہینہ امریکی فوجیوں کے سال خونی ثابت ہوا جس میں ابتک پچپن امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ سوموار کے روز بھی مختلف ہوائی حادثوں میں گیارہ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔
اطلاعات کے مطابق ان مختلف بم حملوں میں کئی فوجی زخمی ہوئے ہیں جنہیں قریبی ہسپتالوں میں پہنچا دیا گیا ہے۔ فوج نے زخمی ہونے والے فوجیوں کے بارے مزید معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔
افغانستان میں نیٹو کے ترجمان نے کہا ہے منگل کو ہونے والے متعدد حملے مقامی ساخت کے روڈ سائڈ بموں سے کیا گیا۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق افغانستان میں روڈ سائیڈ بم بیرونی افواج کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔
اس سے پہلے اگست ہزار نو امریکی فوجیوں کےلیے سب سے خونی مہینہ تصور کیا جاتا تھا جس کے دوران اکاون فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔
امریکی محکمہ دفاع کے ایک اہلکار کے مطابق ماہ اکتوبر ابھی تک امریکی فوجیوں کے لیے سب سے برا مہینہ ثابت ہوا ہے۔
جنوبی افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان کیپٹن ایڈم ویس کے مطابق امریکی فوجیوں پر حملے جنوبی افغانستان کے صوبہ قندھار میں کیےگئے۔
واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ ایک بم حملے کے بعد شدید لڑائی چھڑ گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی فوج کے لیے سب سے خونی مہینہ نومبر 2004 کا تھا جب عراقی شہر فلوجہ پر حملے کےدوران اس کے ایک سو سینتیس فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رواں سال میں افغانستان میں نیٹو کے 445 فوجی ہلاک ہوئے ہیں جن میں دو سو ستتر امریکی فوجی تھے۔
افغانستان میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافہ ایسے وقت دیکھنے میں آیا ہے جب امریکی صدر براک اوباما افغانستان کے بارے امریکی پالیسی کا از سر نو جائزہ لے رہے ہیں اور افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل میکرسٹل چالیس ہزار مزید فوجیوں کا تقاضہ کر رہے ہیں۔




















