’ٹیکساس فائرنگ ڈراؤنا واقعہ ہے‘

امریکی صدر براک اوباما نے ٹیکساس کے فوجی اڈے پر فائرنگ کو، جس میں تیرہ لوگ ہلاک ہوئے، تشدد کا ڈراؤنا واقعہ قرار دیا ہے۔
فورٹ ہڈ نامی فوجی اڈے پر ہونے والے اس واقعے میں تیرہ لوگ ہلاک اور تیرہ زخمی ہوئے۔ فائرنگ کے بعد فورٹ ہُڈ کی ناکہ بندی کر دی گئی۔ اڈے پر ایک فوجی نے نام بتانے کی شرط پر بتایا کہ ’ہمیں افسردہ اور پریشان ہیں اور ہم گھر جانا چاہتے ہیں‘۔
فوجی نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ اڈہ بند ہونے سے کچھ دیر پہلے ہوا۔ اڈے پر تعینات ایک فوجی کی اہلیہ کیرول نے کہا کہ ان کا وہ ایک گھنٹہ انتہائی پریشانی میں گزرا جب وہ اپنے شوہر سے رابطے کی کوشش کر رہی تھیں۔
کیرول نے اپنے گھر سے بی بی سی کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں آپ کو بتا نہیں سکتی کہ میرے ذہن میں کس قسم کے خیالات آئے، میں صرف اس کی خیریت کی دعا کر رہی تھی‘۔
الزبتھ نے جو کیرول سے تین بلاک دور رہتی ہیں کہا کہ ان کے شوہر گھر آئے اور اپنی کٹ لے کر واپس چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر فوری رد عمل کی ٹیم میں شامل ہیں اس لیے انہیں واپس فوجی اڈے پر جانا پڑا۔
ایک طالب علم ایلکس نے کہا کہ ان کا سکول چالیس منٹ کے لیے بند کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کلاسوں کے دروازے بند کر دیے گئے تھے اور طالب علموں کو کھڑکیوں سے رہنے کاحکم دیا گیا تھا۔
فورٹ ہڈ کی ایک رہائشی وینڈی پارک نے کہا کہ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ کوئی ایسا بھی کر سکتا ہے۔ ایک اور خاتون کارلا نزونگر نے کہا کہ فائرنگ کے تعلق امریکہ کی افغانستان اور عراق میں کارروائی سے ہے۔
نزونگر نے کہا کہ وہ زیادہ حیران نہیں کیونکہ یہ ’آزاد دنیا‘ میں سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں عراق، افغانستان یا ویت نام میں کام کرنا ٹھیک نہیں لگتا، ان میں میرے شوہر بھی شامل ہیں، اور کئی بار پھر لوگ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فورٹ ورتھ کی رہائشی اڑتالیس سالہ شیرون گریگوری نے کہا کہ علاقے کے لوگوں کو ایک عرصے سے اس طرح کے حملے کا خدشہ تھا۔





















