ماحولیاتی تبدیلی پر’رویہ‘: مالدیپ ناراض

مالدیپ کے صدر نے دنیا کے امیر ترین ممالک پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے سست رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
محمد نشید نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے لحاظ سے حساس ممالک یعنی وہ کہ جنہيں یہ خطرہ سب سے زیادہ در پیش ہے انہیں بہت کم مالی امداد فراہم کی گئی ہے۔
ان کے مطابق یہ مدد ایسی ہے جیسے کہیں زلزلہ آیا ہو وہاں جھاڑو لے کر پہنچا جائے۔
یہ بات انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے لحاظ سے حساس ممالک کی دو روزہ اعلی سطح کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر کہی۔مالدیپ کی حکومت کا کہنا ہے اگر سمندر کا پانی بڑھتا ہے تو ان کا جزیرہ تباہ ہوجائے گا۔
خیال رہے کہ مالدیپ سمندر کی سطح سے محض 1۔2 میٹر اوپر ہے۔ مالدیپ کے صدر کا کہنا ہے کہ امیر ترین ممالک سے یہ اپیل کی گئی تھی کہ ایسے اقدامات کیے جائیں کہ درجہ حرارت دو ڈگری سے زیادہ نہ بڑھ پائے۔لیکن یہ ہدف حاصل کرنے لیے جن اقدامات کی ضرورت تھی وہ نہیں کیے گئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر درجہ حرارت میں دو ڈگری کا اضافہ ہوتا تو ’گرین لینڈ تباہ ہو جائے گا اور ہمارا ملک بھی تباہی کے راستے پر چلا جائے گا۔ مجھے یہ منظور نہیں ہے‘۔
اس اجلاس میں شریک ہونے دیگر ممالک سے مالدیپ نے اپیل کی ہے کو وہ اس کی مثال سامنے رکھ کر ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کی کوشش کریں۔ مالدیپ نے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے ’رینیو ایبل انرجی‘ یعنی دوبارہ قابل استعمال توانائی کا استعمال اور ہوائی آلودگی کو کم کرنے جیسے اقدامات کیے ہیں اور مالدیپ چاہتا ہے کہ دیگر ممالک بھی ایسا کریں۔

















