نیپال: ماحولیاتی تبدیلی کی مشکلات

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنماحولیات کی تبدیلی سے سب سے زیادہ دیہی علاقوں کے لوگ متاثر ہورہے ہیں

عالمی امدادی تنظیم آکسفیم کا کہنا ہے کہ ہمالیہ میں ماحولیات کی تبدیلی سے ان لاکھوں غریب نیپالی کسانوں کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں جو دیہی علاقوں میں بستے ہیں۔

ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پانی کی کمی کے سبب کھیتی متاثر ہورہی ہے اور درجہ حرارت بڑھنے کا اثر ان لوگوں پر سب سے زیادہ پڑیگا جو پہلے ہی خط غربت کے خط سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

یہ رپورٹ کٹھمنڈو میں خطے میں ماحولیات کی تبدیلی کے حوالے سے ہونے والی کانفرنس سے عین پہلے پیش کی گئی ہے۔

آکسفیم کے لیے کام کرنے والے پربین مان سنگھ کا کہنا ہے کہ ماحول میں تبدیلی سے دیہی علاقے کے لوگوں کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ ’جو لوگ دیہی علاقوں میں رہتے ہیں وہ روزی روٹی کے لیے پہلے ہی جوجھ رہے تھے اور ماحولیات کی تبدیلی سے ان کی مشکلات اور بڑھ گئی ہیں۔‘

نیپال اس بار سخت ترین خشک سردی سےگزرا ہے جس کے بعد غیر موسمی بارش بھی ہوئی لیکن غریبوں کسانوں کی طویل سوکھے سے مشکلات بڑھی ہیں۔ ہمالیہ کے پہاڑی علاقے میں بسے لاکھوں کسانوں کو اس وقت پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جس سے ان کی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔

پینے کے پانی کی کمی کے سبب لوگ ندی اور نالوں کا پانی استعمال کرتے ہیں جس سے طرح طرح کی بیماریاں بھی پھیلی ہیں۔