چین میں ’غیر قانونی جیلیں‘

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ چین میں کئی غیر قانونی جیل خانے ہیں جہاں شہریوں کو مہینوں بند رکھا جاتا ہے۔
تنظیم نے کہا کہ ان قید خانوں کو عام طور پر ’کالی جیل‘ کہا جاتا ہے اور یہ زیادہ تر سرکاری ہسپتالوں، نرسنگ ہوم یا نفسیاتی امراض کے ہسپتالوں میں قائم ہوتے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ان جیلوں میں اکثر وہ لوگ بند ہوتے ہیں جو دور دراز علاقوں سے اپنے خلاف ہونے والی زیادتیوں کی شکایات لے کر ملک کے دارالحکومت بیجنگ آتے ہیں۔
تنظیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عام شہریوں کو سڑک سے اغوا کر کے ان قید خانوں میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ ان لوگوں سے ان کا سب کچھ چھین لیا جاتا ہے، مار پیٹ ہوتی ہے اور اکثر انہیں یہ تک نہیں بتایا جاتا کہ انہیں کس بات کی سزا مل رہی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ انہوں نے اس سال کے شروع میں اڑتیس لوگوں سے بات چیت کی تھی جنہوں نے یہ معلومات فراہم کی تھیں۔ایک شخص نے جو ان قید خانوں میں وقت گزار چکا تھا بتایا کہ اسے قید کیے جانے کی وجہ پوچھنے پر وہاں موجود محافظوں نے مارنا شروع کر دیا اور کہا کہ وہ مجھے مار دیں گے۔
قیدی نے کہا کہ ان کے شور مچانے پر مار پیٹ بند ہو گئی لیکن اس کے بعد انہوں نے دوبارہ بات نہیں کی اور خاموشی اختیار کر لی۔
چین ان قید خانوں کے وجود کے انکار کرتا ہے لیکن سرکاری ذرائع ابلاغ میں بھی ان کے بارے میں خبریں آ چکی ہیں۔ اخبار ’دی چائنا ڈیلی‘ نے گزشتہ ہفتے ایک غیر قانونی جیل خانے کے محافظ کے بارے میں خبر دی تھی جس پر ایک بیس سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کا الزام تھا۔
چین میں ان غیر قانونی قید خانوں کے علاوہ بھی جیلوں کے بارے میں لوگوں کو شکایات ہیں کہ وہاں قیدیوں کی اموات واقع ہوتی ہیں۔ چین کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ان شکایات کو دور کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















