مجیب الرحمن کیس: موت کی سزا برقرار

بنگلہ دیش کی عدالت اعظمی نے ملک کے پہلے صدر شیخ مجیب الرحمن کے قتل کے مقدمے ميں پانچوں سابق فوجیوں کی اپیل خارج کر دی ہے۔
ان پانچوں فوجیوں کو پہلے ہی موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ان کی جانب سے دائر کی گئی یہ آخری اپیل تھی۔
اس مقدمے کے دیگر چھ مجرم ملک سے باہر بھاگ چکے ہیں۔ ان لوگوں کو بھی موت کی سزا سنائی گئی تھی۔
جن پانچ سابق فوجیوں کی اپیل خارج کی گئی ہے وہ شیخ مجیب الرحمن کے قتل کے الزامات سے انکار نہيں کرتے ہيں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ عام عدالت میں نہیں بلکہ فوجی عدالت میں چلایا جانا چاہیے۔
بنگلہ دیش کی تاریخ میں یہ طویل اور متنازعہ مقدمہ دس برس قبل شروع ہوا تھا۔
بنگلہ دیش کے پہلے صدر شیخ مجیب الرحمن کو ان کے بیشتر لواحقین کے ساتھ 1975 میں قتل کر دیا گیا تھا۔

شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی اور ملک کی موجودہ وزیر اعظم شیخ حسینہ اس وقت اس لیے زندہ بچ گئی تھیں کیونکہ وہ ملک سے باہر تھیں۔
اسی برس جون میں بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا تھا کہ شیخ مجیب الرحمن نے ہی بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کیا تھا اس لیے وہ ہی بابا قوم کے درجے کے حق دار ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس فیصلے کے بعد ملک میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کر دیے گئے ہيں اور ہزاروں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔
حکومت کو اس بات کا خدشہ ہے کہ اس فیصلے کے بعد مجرموں کے حامی پُر تشدد مظاہرے کر سکتے ہیں۔
گزشتہ برس دسمبر ميں شیخ حسینہ کی حکومت بننے کے بعد ان کی پہلی ترجیح مجیب الرحمن کے قاتلوں کو سزا دلانا رہی ہے۔







