نئی پالیسی سے ویزوں کے اجراء میں اضافہ

برطانیہ میں طالب علموں کو ویزا جاری کرنے کی نئی پالیسی کےنافذ کے بعد سے بھارت اور بنگلہ دیش سے تعلیم کی غرض سے آنے والوں کی تعداد میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
برطانیہ کی بارڈر ایجنسی نے کہا تھا کہ مجموعی طور پر برطانیہ میں تعلیم کی غرض سے آنے والوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔
تاہم سرکاری معلومات تک رسائی کے ’فریڈم آف انفرمیشن‘ قانون کے تحت حاصل کردہ معلومات کے مطابق صرف ان دونوں ملکوں سے آنے والے طالب علموں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔
تاہم برطانوی ہوم آفس کے مطابق اس تعداد سے کسی عالمی رجحان کا پتا نہیں چلتا۔
پوائنٹس کی بنیاد پر ویزا جاری کرنے کی پالیسی کا نفاذ گزشتہ سال کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد ویزا جاری کرنے کے نظام کو زیادہ سخت بنانا تھا۔
اُس وقت کی وزیرِ داخلہ جیکی سمتھ نے کہا تھا کہ نئی پالیسی کا مقصد ویزا کے حصول کو مشکل بنانا تھا اور اس کے نفاذ کے بعد یورپی برادری کے باہر سے برطانیہ آنے والوں کی تعداد میں کمی آئے گی۔
لیکن اس ماہ کے اوئل میں امیگریش آفیسر نے بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو کے ایک پروگرام میں کہا کہ ان کو خدشہ ہے کہ نئے نظام کے تحت زیادہ لوگ بوگس سٹوڈنٹ ویزوں پر برطانیہ آ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے آنے والوں کی بڑی تعداد ان طالب علموں پر مشتمل ہے جن کی ویزا درخواستیں ماضی میں مسترد ہو چکی تھیں اور وہ برطانیہ تعلیم حاصل کرنے نہیں بلکہ کام کرنے آئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہیتھرو کے ہوائی اڈے پر کام کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ بہت سے آنے والوں کو انگریزی بلکل نہیں آتی اور انھیں اپنے کورسز کے بارے میں بھی کچھ علم نہیں ہوتا۔
انھوں نے کہا ان میں بیشتر کا تعلق برصغیر سے ہوتا ہے۔
سن دو ہزار آٹھ میں جون سے اگست تک کے عرصے میں ممبئی ، نئی دہلی اور ڈھاکہ میں برطانوی ہائی کمیشنز سے چھ ہزار سات سو اکہتر ویزوں کا اجراء ہوا۔
ان ہی مہینوں کے دوران اس سال ان تینوں جگہوں سے انیس ہزار نو سو پچاس ویزے جاری کیئے گئے جو کہ ایک سو پچانے فیصداضافہ ہے۔
جن درخواستوں کو مسترد کیا گیا ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے اور وہ تین ہزار نو سو ستانوے سے بڑھ کر چھ ہزار دو سو اکسٹھ ہو گئی ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے برطانیہ میں جعلی کالجوں اور تعلیم اداروں پر سختی کی ہے اور اس وجہ سے ایسے اداروں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔





















