’کئی سالوں سے‘ بن لادن کی خبر نہیں

پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ اسامہ بن لادن پاکستانی قبائلی علاقے میں ہیں
،تصویر کا کیپشنپہلے خیال کیا جاتا تھا کہ اسامہ بن لادن پاکستانی قبائلی علاقے میں ہیں

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے تسلیم کیا ہے کہ امریکہ کے پاس کئی سالوں سے اسامہ بن لادن کے بارے میں کوئی باوثوق معلومات نہیں ہیں۔

مسٹر گیٹس نے امریکی ٹی وی چینل اے بی سی کو بتایا کہ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ اسامہ بن لادن کہاں ہے، اگر ہمیں پتا ہوتا تو ہم اسے گرفتار کر لیتے۔

گزشتہ ہفتے پاکستان میں قید ایک طالبان قیدی نے بتایا تھا کہ ان کے اطلاعات کے مطابق اسامہ بن لادن اس سال افغانستان میں تھے۔

تاہم، مسٹر گیٹس نے کہا کہ وہ ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کر سکتے۔

اے بی سی کے پروگرام میں جب ان سے پوچھا گیا کہ آخری بار امریکہ کے پاس القاعدہ رہنما کے بارے میں حتمی معلومات کب تھیں تو رابرٹ گیٹس نے کہا کہ اس بات کو کئی سال ہو چکے ہیں جب امریکہ کے پاس ان کے بارے میں حتمی معلومات تھیں۔

وہ اس طالبان قیدی کے بارے میں بھی تصدیق نہ کر سکے جنہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ نائن الیون سے پہلے متعدد بار اسامہ بن لادن سے مِل چکے ہیں۔

طالبان قیدی کے مطابق جنوری یا فروری میں ان کی ملاقات ایک ساتھی سے ہوئی تھی جس نے اسامہ بن لادن کو پندرہ بیس روز پہلے افغانستان میں دیکھا تھا۔

اس سے پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ اسامہ بن لادن افغانستان کی سرحد پر واقع پاکستانی قبائلی علاقے میں ہیں۔

لیکن طالبان قیدی کے مطابق امریکی ڈرون حملوں کے خطرے کے پیش نظر شدت پسند پاکستان کی سرزمین سے دور رہ رہے ہیں۔ طالبان قیدی کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن ٹھیک ٹھاک ہیں۔

مسٹر رابرٹ گیٹس کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ایک ہفتے پہلے امریکی صدر براک اوباما نے مزید تیس ہزار فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

اس موقع پر امریکی صدر نے کہا تھا کہ القاعدہ کی قیادت افغانستان سے فرار ہو کر پاکستان میں پناہ لیے ہوئے ہے اور امریکہ ان افراد کے خلاف کارروائی سے دریغ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا ’ہم یہ سوچ کر آگے بڑھیں گے کہ افغانستان کا مسئلہ پاکستان کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔ ہم افغانستان گئے تھے اس سرطان کو روکنے لیکن یہ سرطان پہلے ہی پاکستان کے بعض سرحدی علاقوں میں جڑ پکڑ چکا ہے۔‘

فارن ریلیشنز کمیٹی ڈیموکریٹک سٹاف کی تیار کردہ امریکی سینیٹ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن دو ہزار ایک میں افغانستان پر حملے کے وقت تورا بورا کے مقام پر اسامہ بن لادن امریکیوں کی پہنچ میں تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت مزید فوج بھیجنے کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا جس سے القاعدہ کے رہنما کو اس بات کا موقع مل گیا کہ وہ بغیر کسی مزاحمت کے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چلے جائیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بِن لادن کو ہلاک کرنے یا پکڑنے میں ناکامی کے دور رس نتائج برآمد ہوئے ہیں اور اسی سے افغانستان میں اب تک جاری مزاحمت کی بنیاد پڑی ہے۔

اس سے پہلے برطانوی وزیر اعظم گارڈن براؤن نے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ اسے القاعدہ کی قیادت بالخصوص اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو ڈھونڈ نکالنے میں دنیا کی پوری مدد کرنی ہوگی۔

برطانوی وزیر اعظم گارڈن براؤن نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا ’ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ آٹھ سال گزرنے کے باوجود ہم القاعدہ کی اہم قیادت کے نزدیک کیوں نہیں پہنچ سکے ہیں۔‘

اس کے جواب میں پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ابھی تک امریکہ نے پاکستان کو بن لادن سے متعلق کوئی معتبر اور قابلِ عمل معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔