’بیان بازی نہ کریں، ٹھوس معلومات دیں‘

یوسف رضا گیلانی
،تصویر کا کیپشنپاکستانی وزیراعظم پیر کو برطانیہ کے دورے پر روانہ ہوئے ہیں

پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اسامہ بن لادن کی تلاش کے حوالے سے پاکستانی کوششوں کے حوالے سے برطانوی وزیراعظم کے بیان کو رد کرتے ہوئے اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر کہی گئی بات قرار دیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ اسے القاعدہ کی قیادت بالخصوص اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو ڈھونڈ نکالنے میں دنیا کی پوری مدد کرنی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ آٹھ سال گزرنے کے باوجود ہم القاعدہ کی اہم قیادت کے نزدیک کیوں نہیں پہنچ سکے ہیں‘۔

جرمنی اور برطانیہ کے چار روزہ دورے پر روانگی سے قبل راولپنڈی کے چکلالہ ائربیس پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ایک طرف برطانیہ سمیت پوری دنیا دہشتگردی کے خلاف جنگ کی کوششوں میں پاکستان کی تعریف کرتی ہے اور اس کے دہشتگردوں کے خلاف فوجی آپریشنز کو سراہتی ہے جبکہ دوسری طرف وہ ہمیں مزید کچھ کرنے کو کہتے ہیں‘۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ’اگر وہ مزید کوششوں کا مطالبہ کر رہے ہیں تو یہ سیاق و سباق سے ہٹ کر کہی گئی بات لگتی ہے‘۔

اس سے قبل پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بیان بازی سے گریز کرتے ہوئے پاکستان سے ٹھوس انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ کریں۔ خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق ترجمان عبدالباسط کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے حوالے سے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں پر کسی کو شک نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو اسامہ بن لادن کے بارے میں علم نہیں اور اگر برطانیہ کے پاس اس سلسلے میں ٹھوس معلومات ہیں تو اسے پاکستان کو یہ معلومات فراہم کرنی چاہیئیں اور دہشتگردی کے خاتمے میں پاکستان سے تعاون کرنا چاہیے۔

خیال رہے کہ برطانوی وزیراعظم نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ ’ہمیں پاکستان کو کہنا ہوگا کہ اس کی سکیورٹی فورسز اور سیاستدانوں کو القاعدہ کی قیادت کو ڈھونڈ نکالنے میں مدد کرنی ہوگی‘۔ برطانوی وزیر اعظم کا یہ بیان امریکی سینیٹ کی ایک رپورٹ کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ اسامہ بن لادن تورا بورا سے بچ کر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گم ہو گئے تھے۔