دریائے میکونگ سے

دنیا بھر کا موسم تیزی سے بدل رہا ہے۔ اس کے اثرات شاید ہمیں ابھی نظر نہ آئیں لیکن کچھ سالوں بعد اس سے یقیناً دنیا کا نقشہ بدل جائے۔
ایسا ہونا شروع ہو گیا ہے۔ کئی ممالک کے بڑے بڑے شہر آہستہ پانی کے اندر ڈوب رہے ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے مالدیپ کے سیاستدانوں نے دنیا کو خبردار کیا تھا کہ اگر عالمی حدت اور موسمی تبدیلی کے متعلق کچھ نہ کیا تو پورا مالدیپ کچھ ہی سالوں میں غائب ہو جائے گا۔ اگر بالکل ایسا نہیں تو اس سے کچھ ملتا جلتا حال ویتنام کا بھی ہے۔
ویتنام ایک زمین کا پتلا سا ٹکڑا ہے جو کہ انگریزی کے حرف ایس سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس کے شمال میں چین ہے، مغرب میں کمبوڈیا اور لاؤس، مشرق میں سمندر اور خلیجِ تھائی لینڈ مشرق اور جنوب میں۔
ویتنام میں دو طرح کے ڈیلٹا ہیں، شمال میں ریڈ ریور ڈیلٹا یعنی سرخ دریا والا ڈیلٹا اور جنوب میں میکونگ ڈیلٹا۔ میکونگ ڈیلٹا ایک بہت ذرخیز علاقہ ہے اور جس کی آب و ہوا کاشت کے لیے بہت مفید ہے۔
میکونگ ڈیلٹا چھوٹی نہروں اور دریاؤں کا ایک جال ہے جن کا پانی آخر کار مشرقی سمندر میں جا گرتا ہے۔
موسمی تبدیلی سے سمندر کے پانی کی سطح آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے اور ایک اندازے کے مطابق 2100 صدی تک ایک میٹر تک بڑھ جائے گی۔ ویتنام چونک پہلے ہی سطح سمندر سے اتنا اونچا نہیں ہے اس لیے اسے شدید خطرہ ہے کہ اس کا تقریباً اکتیس سو سکوائر کلومیٹر کا علاقہ سمندر کے پانی کی زد میں آ جائے گا۔
اس بات کی خصوصاً میکونگ ڈیلٹا میں بہت تشویش ہے کیونکہ یہاں سے ہی ویتنام زیادہ اناج پیدا کرتا ہے۔ اسی خدشے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بی بی سی ورلڈ سروس نے میکونگ ڈیلٹا میں موسمی تبدیلی کے حوالے سے ایک خصوصی پراجیکٹ لانچ کیا جس کا نام ویتنام اور موسمی تبدیلی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

یہ پروگرام دریائے میکونگ میں تین دن تک کشتی پر ایک سفر کی صورت میں ہے جس میں بی بی سی ورلڈ سروس کی ٹیم اور دیگر ویتنامی اور بین الاقوامی ادارے اس بات پر روشنی ڈالیں گے کہ موسمی تبدیلی کے اثرات کا اثر اس خطے پر کیسا ہے اور اسے کم کرنے کے لیے کیا کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کشتی میں میکونگ ڈیلٹا اور موسمی تبدیلی کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ماہرین بھی سفر کر رہے ہیں جو مسئلے کے متعلق مقامی اور بین الاقوامی صحافیوں کو آگاہی دیں گے۔
اس میں بی بی سی کی ٹیم اس بات پر بھی روشنی ڈالی گی کہ کس طرح میکونگ ڈیلٹا جسے ایشیا کی رائس باسکٹ یا چاولوں کی ٹوکری کہا جاتا ہے، موسمی تبدیلی اور اس کی وجہ سے سمندر کے پانی کی سطح میں اضافہ اور پانی کے زیادہ نکمین ہو جانے اور اس کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ اسی دوران سیلابوں کو روکنے اور مینگورو دوبارہ لگانے کا موضوع بھی زیرِ بحث آئے گا۔ماہرین اس بات پر روشنی ڈالیں گے کہ کس طرح نمکیات ملے پانی سے نئی طرح کے چاول کی ورائٹی کاشت کی جا سکتی ہے اور ویتنامی حکومت اس سلسلے میں کیا کر رہی ہے۔
کیونکہ سیلاب آنے سے سب سے زیادہ متاثر عورتیں اور بچے ہیں اس لیے یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ان کی بحالی اور ترقی کے لیے کیا کیا جا رہا ہے اور کیا کیا جا سکتا ہے۔
بی بی سی کے ویتنام میں موسمی تبدیلی کے پروگرام کے پراجیکٹ مینیجر جیمز سیلز نے پراجیٹ لانچ کرتے ہوئے کہا کہ میکونگ ڈیلٹا کے اس نازک ایکو سیسٹم کی سلامتی یہاں رہنے والے لاکھوں لوگوں کے لیے بہت ضروری ہے۔ اور بی بی سی کے صحافی کوپین ہیگن سمٹ کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی روشنی ڈالیں گے کہ کس طرح موسمی تبدیلی عام لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
موسمی تبدیلی صرف گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج نہیں ہے۔ اس کے ساتھ زندگیاں اور روزگار وابستہ ہے، دیکھنا یہ ہے کہ کوپین ہیگن میں دنیا کے بڑے اس بات کو سمجھ سکیں گے کہ نہیں۔





















