’ہتھیاروں کے ثبوت کے بغیر بھی صدام کو ہٹانا درست تھا‘

برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہونے کا ثبوت نہ بھی ہوتا تو اس وقت ملک کے صدر صدام حسین کو ہٹانے کا فیصلہ درست تھا۔
ٹونی بلیئر نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے سنہ دو ہزار تین میں عراق پر حملے کی حمایت اس لیے کی کہ صدام حسین خطے کے لیے خطرہ تصور کیے جاتے تھے۔ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے دعوؤں کے بغیر مختلف وجوہات بیان کرنا پڑتی۔
یاد رہے کہ ستمبر دو ہزار دو میں برطانوی حکومت نے ڈوزیئر شائع کیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدام حسین کے حکم پر پینتالیس منٹ میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
بی بی سی ون کے پروگرام پر ٹونی بلیئر سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پھر بھی عراق پر حملے کے حامی ہوتے اگر ان کو معلوم ہوتا کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہیں ہیں، جس پر ان کا جواب تھا ’میں پھر بھی صدام کو ہٹانے کو صحیح سمجھتا۔ یہ بات صحیح ہے کہ ایسی صورت میں مختلف وجوہات کا سہارا لینا پڑتا۔‘
انہوں نے کہا کہ ان کو ان لوگوں کے ساتھ ہمدردی ہے جو اس وقت بھی اور اب بھی جنگ کے خلاف تھے ’لیکن میں نے فیصلہ کرنا تھا‘۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آیا وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں نے ان کو فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ایک رخ تھا اس بات کا کہ صدام خطے کے لیے خطرہ تھے۔‘
برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اگلے سال کے اوائل میں عراق پر جاری عوامی انکوائری کے سامنے پیش ہوں گے۔

















