اکتالیس فیصد پاکستانیوں کی ویزہ درخواستیں مسترد

برطانوی وزارت داخلہ کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستانیوں کی ویزہ درخواست مسترد ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق پچھلے سال اکتالیس فیصد پاکستانیوں کی خاندان سے ملنے کے لیے ویزہ درخواستیں مسترد ہوئیں۔ دوسرے نمبر پر بنگلا دیشیوں کی درخواستیں تھیں جو اکتیس فیصد مسترد کی گئیں جبکہ بھارتیوں کی مسترد ہونے والی درخواستیں صرف چودہ فیصد تھیں۔
برطانوی سیاسی جماعت لیبرل ڈیموکریٹ کے ممبر پارلیمنٹ سارہ ٹیدر نے وزارت داخلہ پر امتیازی سلوک برتنے کا الزام لگایا ہے تاہم حکومت نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کی درخواستیں بھی مسترد کر دی جاتی ہیں جنہیں درحقیقت کسی اہم تقریب جیسے کہ شادی یا جنازے وغیرہ میں شرکت کے لیے جانا ہوتا ہے۔
نارتھ لندن کے رہائشی اکہتر سالہ عبدالرحمان ایسے لوگوں میں سے ایک ہیں جو اپنے خاندان والوں کو ملنے کے لیے لندن نہیں بلا سکتے۔ ان کے بیٹے اسرار کی نومبر میں شادی ہوئی اور رحمان اپنے دو بھائیوں، ایک بہن اور رشتہ داروں کو پاکستان سے بلانا چاہتے تھے۔ لیکن ان کا فیملی ویزہ درخواست ناکافی رقم اور رہائش کی بنا پر مسترد کر دی گئی۔ ان کی درخواست اس امر کے باوجود مسترد کردی گئی کہ رحمان نے ان کی ہوائی ٹکٹ اور قیام و طعام کے علاوہ چودہ ہزار پاؤنڈ ظاہر کیے تھے۔
’ان کا میرے بیٹے کی شادی میں شرکت کرنا بہت ضروری تھا۔ میں ان کی درخواست مسترد ہونے کی وجہ سے کافی افسردہ ہوں۔ ہم سوچ رہے تھے کہ وہ جب آئیں گے تو ہم مل کر ہلا گلا کریں گے لیکن ان کے بغیر مزہ نہیں آیا۔‘
لیوٹن کے رہائشی اکبر کی بھی اس سے ملتی جلتی کہانی ہے۔ اڑتالیس سالہ وحید اکبر نے اپنے بزنس مین بھائی کی لندن آنے کی درخواست دی لیکن ان کی فیملی ویزہ درخواست مسترد کردی گئی۔
میں اس کمیونٹی کا ایک عزت دار شخص ہوں اور میری درخواست کی حمایت میرے علاقے کے ممبر پارلیمنٹ نے بھی کی تھی۔ لیکن اس کے باوجود درخواست مسترد کردی گئی۔ اگر میرے جیسا شخص جس کے پاس پیسوں کی بھی کمی نہیں ہے اپنے بھائی کے لیے ویزہ نہیں لے سکتا تو پھر کچھ غلط ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ممبر پارلیمنٹ سارہ ٹیدر کا کہنا ہے کہ حکومت کو اپنے طریقہ کار کی نظر ثانی کرنی ہوگی اور دیکھنا ہو گا کہ کیوں اتنے پاکستانیوں کی درخواستیں مسترد کی جا رہی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں کر رہے اور درخواستیں اس لیے مسترد کی جاتی ہیں جب وہ مطمئین نہیں ہوتے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ درخواست گذار کو ان کی مطمئین کرنا ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک واپس جائیں گے اور ان کے پاس کافی رقم ہے۔





















