پاکستان افغان طالبان پر دباؤ بڑھائے: امریکہ

امریکی فوج کے علاقائی کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ افغان طالبان کے خلاف دباؤ میں اضافہ کرے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ افغان طالبان پاکستان کے اندر محفوظ علاقوں کو پناہ لینے اور سرحد پار افغانستان میں حملوں کی خاطر استعمال کرتے ہیں۔
دوسری طرف پاکستان کا موقف ہے کہ وہ تمام شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کررہا ہے اور ایک حالیہ کارروائی میں افغان سرحد کے قریب کم از کم بائیس شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
بحرین میں سیکیورٹی سے متعلق ایک کانفرنس سے خطاب کرتے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا کہ افغانستان میں اہم پیش رفت کے لیے یہ عمل بہت مددگار ہوگا کہ پاکستان افغانستان میں گڑبڑ کرنے والے عناصر کی قیادت پر مزید دباؤ ڈالے۔
انہوں نے پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائی کی تعریف کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ آپریشن بنیادی طور پر افغان طالبان پر نہیں بلکہ پاکستانی شدت پسندوں پر مرکوز ہے۔
بی بی سی کے سکیورٹی امور کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی قیادت کے بارے میں ایک رائے یہ ہے کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں یا بلوچستان میں چھپی بیٹھی ہے لیکن پاکستان اب تک ان علاقوں میں بڑی فوجی کارروائیاں کرنے سے پس و پیش سے کام لے رہا ہے۔
حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی ہورہی ہے جس میں اب تک چھ سو کے قریب شدت پسند مارے جاچکے ہیں۔
افغانستان کے بارے میں جنرل پیٹریاس نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں انہیں طریقوں کو استعمال کرنے کی کوشش کررہا ہے جو اس نے عراق جنگ کے دوران اپنائے تھے جن کے تحت انہیں امید ہے کہ امریکہ افغانستان میں مقامی گروہوں کے ساتھ اتحاد قائم کرسکے گا بالکل اسی طرح، جس طرح امریکہ نے القاعدہ کے خلاف عراق کے سنی قبیلوں کے ساتھ اتحاد کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی




















