’جنگ میں اقدار کاخیال رکھیں گے‘

براک اوباما نوبل انعام کے ساتھ
،تصویر کا کیپشن’مجھے احساس ہے کہ ماضی میں انعام حاصل کرنے والے میرے سے زیادہ حقدار تھے‘

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ کے لیے لازمی ہے کہ وہ جب بھی جنگ کرنے کا فیصلہ کرے اس میں اخلاقی اقدار کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ اسی وقت کی جائے جب ضروری ہو جائے اور اس کا اخلاقی جواز ہونا چاہیے۔

امریکی صدر نے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں امن کا نوبل انعام حاصل کرتے ہوئے افغانستان میں امریکی موجودگی کا دفاع کیا اور کہا کہ طاقت کا استعمال دیرپا امن کے لیے ضروری ہے۔

چند ہفتے قبل براک اوباما کے لیے انعام کے اعلان پر عالمی سطح پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا تھا۔ وہ نوبل انعام حاصل کرنے والے چوتھے امریکی صدر ہیں۔

لوگوں کا کہنا تھا کہ ایسے ملک کے کمانڈر ان چیف کو امن کا انعام دینا درست نہیں جس کی افواج عراق اور افغانستان میں لڑائی کر رہی ہیں۔

صدر اوباما نے کہا کہ ’میں انتہائی عاجزی سے اعزاز قبول کرتا ہوں‘۔ انہوں نے کہا کہ انہیں احساس ہے کہ تاریخ کی بڑی شخصیات کے مقابلے میں ان کی کامیابیاں بہت کم ہیں۔

انہوں نے کہ وہ ان لوگوں سے بحث نہیں کر سکتے جن کا کہنا ہے کہ ان کے مقابلے میں ماضی میں نوبل انعام حاصل کرنے والے زیادہ اہل تھے۔

افغانستان میں مزید فوجی بھیجنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض اوقات طاقت کا استعمال نہ صرف ضروری ہو جاتا ہے بلکہ اخلاقی طور پر بھی لازمی ہوتای ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے بغیر ہٹلر کی افواج کا راستہ روکنا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہ القاعدہ کے رہنماؤں کو مذاکرات سے ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی افواج کو اپنے کردار سے اور قوانین او ضوابط کی پابندی سے اپنے ان دشمنوں سے ممتاز کرنا ہوگا جن کا کوئی اصول نہیں۔