سونامی کی پانچویں برسی پر تقریبات

پانچ سال قبل باکسنگ ڈے پر آنے والی سونامی میں ڈھائی لاکھ افراد لقمہِ اجل بنے
،تصویر کا کیپشنپانچ سال قبل باکسنگ ڈے پر آنے والی سونامی میں ڈھائی لاکھ افراد لقمہِ اجل بنے

بحرِ ہند کے ملک نے ہولناک سونامی کی پانچویں برسی منا رہے ہیں جس میں ڈھائی لاکھ افراد لقمہ اجل بنے تھے۔

انڈونیشیا کے صوبے آچے میں جہاں ایک لاکھ ستر ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے ہزاروں افراد نے مسجدوں اور نجی رہائش گاہوں میں دعائیہ تقریبات میں شرکت کی۔

بہتر سالہ سِتی امینہ نے صوبے کے دارالحکومت بندہ آچے کے قبرستان میں فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے خاندان کا کوئی فرد بھی زندہ نہیں بچ سکا۔

’میرے بچے، پوتے، بھائی اور بہنیں سب چلے گئے اور مجھے اکیلے زندہ چھوڑ دیا۔‘

بندہ آچے میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار کرشما واسوانی کا کہنا ہے کہ سونامی تباہ ہونے والے کاروباری علاقوں میں اب دوبارہ چہل پہل ہے۔

نامہ نگار کے مطابق کئی افراد بین الاقوامی امداد میں ملنے والے اربوں ڈالروں کی وجہ سے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل ہو سکے ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق پانچ سال گزرنے کے باوجود آچے کے لوگوں کے دلوں سونامی کی تباہی کے نشان اور اس کے نتیجے میں ملنے والے دکھ اب بھی تازہ ہیں۔

سری لنکا انڈونیشیا کے بعد سونامی سے متاثر ہونے والا دوسرا بڑا ملک تھا جہاں چالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے۔

کولمبو میں بی بی سی کے نامہ نگار چارلس ہیویلینڈ کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی اور مغربی حصوں کا دورہ کرنے والے افراد اب بھی تباہ شدہ عمارتیں دیکھ سکتے ہیں۔

تھائی لینڈ کے ساحلی علاقوں میں بدھ مت کے پیروکار بھگشوؤں نے ہلاک ہونے والوں کے لیے اونچی آواز میں دعائیں کیں۔ دعائیہ تقریب میں شرکت کرنے والے کئی افراد نے پانچ سال پہلے ہلاک ہونے والوں کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں۔

سیاحوں نے سینکڑوں کی تعداد میں پھکٹ جزیرے کا دورہ کیا اور حالیہ سالوں کی بدترین آفت کی یاد منائی۔ جزیرہ پھکٹ کی مشہور پوٹانگ بیچ پر عین اس وقت ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی جب سونامی کی لہریں ساحل سے ٹکرائی تھیں۔

تہتر سالہ جرمن شہری رسچٹسکا آڈولف اور ان کی اہلیہ کیتھرینا نے سونامی کا شکار ہونے والے افراد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے نیلگوں سمندری پانی پر سفید گلاب کی پتیاں نچھاور کیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم اس لیے یہاں آکر ٹھہرتے ہیں کیونکہ ہم ابھی زندہ ہیں۔‘

امید ہے کہ سونامی سے متاثر ہونے والے دیگر چودہ ملکوں میں بھی ایسی ہی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔