سوماٹرا زلزلہ: عالمی امداد کی اپیل

ایک عمارت کے ملبے کے نیچے سے ایک عورت کو نکالا جا رہا ہے
،تصویر کا کیپشنایک عمارت کے ملبے کے نیچے سے ایک عورت کو نکالا جا رہا ہے

انڈونیشیا کے جزیرے سوماٹرا میں شدید زلزلے کے بعد امدادی ٹیمیں ہنگامی بنیادوں پر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہی ہیں۔

<bold><link type="page"><caption> زلزلے سے تباہی کی تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/10/091001_pics_sumatra_quake_zs.shtml" platform="highweb"/></link></bold>

بدھ کو ریکٹر سکیل پر 7.8 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ کئی لوگ اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ سُوماٹرا میں آنے والے زلزلے میں کم از کم گیارہ سو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

جمعہ کوانڈونیشیا کے وزیرِ صحت ستی فادِلہ سپاری نے امدادی کاموں کے لیے غیر ملکی امداد کی اپیل کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کہ مطابق انہوں نے کہا: ’ہمیں لوگوں کو نکالنے کے لیے غیر ملکی مدد کی ضرورت ہے۔‘

سوماٹرا کے مغربی صوبے کے دارالحکومت پڈانگ کے قریبی علاقے میں پہلے بدھ کی شام سات اعشاریہ چھ شدت کا زلزلہ آیا تھا جبکہ جمعرات کی صبح اسی علاقے میں آنے والے چھ اعشاریہ آٹھ شدت کے ایک اور زلزلے نے جزیرے کو ہلا ڈالا۔

زلزلے کی وجہ سے اس علاقے کی کئی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔

رات گئے امدادی ٹیمیں ایک تباہ ہونے والی تین منزلہ سکول کی عمارت کے ملبے کے نیچے سے طلبہ کو نکالنے کی کوششیں کرتی رہیں۔ انڈونیشیا کے اخبار جکارتہ پوسٹ کے مطابق جب سکول کی عمارت گری تھی تو اس وقت اس میں ساٹھ کے قریب طالبِ علم موجود تھے۔

پولیس نے جمعرات کو بتایا تھا کہ اب تک نو بچوں کو زندہ نکالا جا چکا ہے جبکہ ملبے کے نیچے سے آٹھ لاشیں بھی نکالی گئی ہیں۔

پڈانگ زلزلہ
،تصویر کا کیپشنزلزلے میں ہلاک ہونے والوں کے رشتہ دار نوحہ کناں

زلزلے کے نتیجے میں پڈانگ کے مرکزی ہسپتال کا بھی کچھ حصہ منہدم ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک عارضی مردہ خانہ بنگیا گیا ہے جہاں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں پیلے رنگ کے تھیلوں میں رکھی ہوئی ہیں۔ ساتھ ہی قریب لگے ہوئے ٹینٹوں میں آپریشن کیے جا رہے ہیں۔

پڈانگ میں امدادی کاموں میں مصروف ایک ڈاکٹر نوفلی اچلاس نے بتایا کہ ’زلزلے کے بعد سے ہم نے سینکڑوں آپریشن کیے ہیں۔‘

پڈانگ ’سرفنگ‘ کے شوقین افراد کے لیے نہایت مقبول جگہ ہے۔

آسٹریلیا کے وزیرِ خارجہ سٹیفن سمتھ نے کہا ہے کہ زلزلے کے بعد سے سو کے قریب آسٹریلیائی باشندے لاپتہ ہیں، اگرچہ اس طرح کے کوئی ثبوت نہیں ملے کہ وہ زلزلے میں ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا امدادی ٹیمیں اور دوسرا ضروری سامان انڈونیشیا بھیج رہا ہے۔

امریکہ کے صدر اوباما نے بھی، جنہوں نے اپنے بچپن کا کچھ حصہ انڈونیشیا میں گزارا ہے، انڈونیشیا کے لیے امداد کا وعدہ کیا ہے۔

دیگر ممالک بھی جن میں جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ شامل ہیں، امدادی سامان بھیج رہے ہیں۔

سوماٹرا میں زلزلوں کے بعد بحر الکاہل میں سونامی سے آگاہ کرنے والے سینٹر نے سونامی کی وارننگ جاری کی تھی جسے بعد میں واپس لے لیا گیا۔ خیال رہے کہ منگل کی رات بحرالکاہل میں بھی ایک زلزلہ آیا تھا اور اس سے شروع ہونے والی سونامی سے مجمع الجزائر میں سموا اور امریکی سموا جزائر میں ایک سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔