سی آئی اے کیلیےاوباما کی حمایت

امریکی صدر براک اوباما نے سی آئی اے کے سات اہلکاروں کی افغانستان میں ہلاکت کے بعد ادارے کے نام ایک خط میں اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
امریکی صدر نے خط میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے کام کی تعریف کی۔ خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں خوست میں سی آئی اے کی سربراہ بھی شامل ہیں۔ مذکورہ خاتون اہلکار تین بچوں کی ماں تھیں۔ اس واقعے میں چھ اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق خوست کا ہوائی مرکز جہاں سی آئی اے کے ہلاک ہونے والے اہلکار تعینات تھے پاکستان میں ڈرون حملے کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار نے خفیہ ادارے کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حملہ آور کو ممکنہ مخبر سمجھتے ہوئے خوست کے ہوائی اڈے پر بلایا گیا تھا اور حملے کے وقت سی آئی اے کے اہلکار ان کے ہمراہ تھے۔
طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور بارود سے بھری جیکٹ سے لیس تھا اور اس نے فوجی وردی پہن رکھی تھی۔ اس حملے کو انیس سو تراسی میں بیروت میں امریکی سفارتخانے پر حملے کے بعد اس کی خفیہ ایجنسی پر سب سے بڑا حملہ کہا جا رہا ہے۔
اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق انیس سو سینتالیس میں سی آئی اے کے قیام کے بعد سے اب تک اس خفیہ ادارے کے ہلاک ہونے والے نوّے ملازمین کو اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔
مبصرین کے مطابق خوست میں سی آئی اے کے خلاف حملے کے بعد ملک میں غیر ملکی افواج کی دشمنوں کو اپنی صفوں میں داخل ہونے سے روکنے کی صلاحیت کے بارے میں سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
امریکی صدر اوباما نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے نام محب وطن افراد کی اس طویل فہرست میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے ہم وطنوں اور ان کی طرز زّندگی کے دفاع کے لیے قربانیاں دی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سی آئی اے نے کہا ہے کہ افغانستان میں کارروائی کی حساس نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے ہلاک ہونے والے افراد کے نام اور ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے۔





















