لتھوانیا، سی آئی اے کے حراستی مراکز

حراستی مرکز
،تصویر کا کیپشناس سکول میں بھی مشتبہ شدت پسندوں کو رکھا گیا تھا

لتھوانیا میں انکوائری سے پتہ چلا ہے کہ امریکہ کے خفیہ ادارہ سی آئی اے نے نائن الیون کے بعد مشتبہ افراد کو رکھنے کے لیے لتھوانیا میں بھی کم سے کم دو جگہوں کو خفیہ حراستی مرکز کے طور پر استعمال کیا تھا۔

اس رپورٹ کو لتھوانیا کی پارلیمانی کمیٹی نے تیار کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سنہ دو ہزار پانچ اور چھ کے دوران سی آئی اے کے دو چارٹرڈ ہوائی جہازوں کو اترنے کی اجازت دی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ان جہازوں کے آس پاس کسی بھی لتھوانوائی افسر کو نہ تو جانے کی اجازت تھی اور نہ ہی انہیں بتایا گيا تھا کہ اس میں سوار کون ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق ایک جگہ کم سے کم آٹھ مشتبہ شدت پسندوں کو رکھا گیا تھا۔ دارالحکومت ویلنس کے مضافات کے ایک سکول میں دوہزار چار اور پانچ کے دوران مشتبہ افراد کو حراست میں رکھا گیا تھا۔

اس برس اگست کے ماہ میں امریکی ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی خبریں شائع ہوئی تھیں کہ لتھوانیا، پولینڈ اور رومانیہ جیسی جگہیں سی آئی اے کے خفیہ حراستی مرکز رہے ہیں۔

لیکن پارلیمانی رپورٹ میں ملک کے سیاسی رہنماؤں کو اس سلسلے میں کسی بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بری رکھا گیا ہے جو سی آئی کی طرف سے کی گئیں تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تو صدر کو بھی نہیں پتہ تھا کہ حقیقت میں امریکی خفیہ دارہ وہاں کیا کر رہا تھا۔