طالبان پر پاک افغان مذاکرات کا آغاز

پاکستان اور افغانستان کے صدور نے ترکی کے دارالحکومت استنبول میں دو روزہ مذاکرات شروع کر دیے ہیں جس میں وہ طالبان سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کی کوشش کریں گے۔
مذاکرات کی میزبانی ترکی کر رہا ہے جو پہلے بھی افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں ثالثی کی پیش کش کر چکا ہے۔ ترکی کے افغانستان اور پاکستان دونوں سے قریبی تعلقات ہیں اور وہ دونوں کو طالبان کے خلاف ایک مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پیر کے مذاکرات میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بات چیت کے امکان پر بھی غور کیا جائے گا اور اس بات چیت میں صدر کرزئی کے علاوہ صدر آصف علی زرداری بھی حصہ لیں گے۔
بعد میں افغانستان کے چار ہمسایہ ممالک کے نمائندے بھی مذاکرات میں شامل ہوں گے تاکہ اسی ہفتے افغانستان کے مسئلے پر لندن میں ہونے والی بڑی کانفرنس سے قبل کسی حکمتِ عملی پر اتفاق کیا جاسکے۔ ترکی میں افغانستان کے سفیر مسعود خلیلی کے مطابق بات چیت کا مقصد خطےمیں تعاون بڑھانے اور مصالحت کی راہ ہموار کرنا ہے کیونکہ ان کے مطابق علاقے میں سبھی امن کے لیے ترس رہے ہیں۔
اس کانفرنس کا بنیادی مقصد اگرچہ یہ ہے کہ لندن کانفرنس سے قبل کسی مشترکہ حکمتِ عملی کی راہ ہموار کی جاسکے لیکن طالبان سے مذاکرات پر ترکی کے دیرینہ موقف اور افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل سٹینلے میک کرسٹل کے اس بیان سے ایک دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی ہے کہ مستقبل میں طالبان افغانستان کی حکومت میں شامل ہو سکتے ہیں۔
جنرل میک کرسٹل نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے حملوں میں اس سال زبردست اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ طالبان یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ افغانستان کے حالات صدر کرزئی اور ان کے مغربی اتحادیوں کے قابو سے باہر ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کوئی بھی لڑائی بالآخر سیاسی تصفیہ سے ہی ختم ہوتی ہے اور وہ ایسی صورتحال کا تصور کر سکتے ہیں جس میں طالبان بھی اقتدار میں شامل ہوں۔
ان کا خیال ہے کہ مغربی افواج میں اضافے کے بعد طالبان کمزور ہوجائیں گے اور وہ مجوراً کسی امن معاہدے کو تسلیم کر سکتےہیں۔
لیکن نامہ نگاروں کے مطابق ان کے اس انٹرویو سے دو باتیں بالکل واضح ہیں۔ ایک تو وہ یہ مانتے ہیں کہ اس مسئلے کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں ہے اور دوسرے لڑائی کی شدت اور نتیجتاً دونوں جانب جانی نقصان میں کافی اضافہ ہوگا۔
گزشتہ ہفتے امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے بھی طالبان کو افغانستان کے سیاسی تانے بانے کا حصہ قرار دیا تھا۔ امریکی پالیسی میں یہ تبدیلی کافی متنازعہ ہے جس پر حکومت کے اندر اور نیٹو اتحادیوں کے درمیان بھی اختلافات ہیں۔ کچھ لوگوں کو فکر یہ ہے کہ اگر صدر اوباما اٹھارہ مہینوں میں افواج کی واپسی کا سلسلہ شروع کرنے کے ارادے پر قائم رہتے ہیں تو طالبان امن کی بات چیت میں شامل ہونے کے بجائے غیر ملکی افواج کی واپسی کے انتظار کو ترجیح دیں جس سےایک وسیع تر تصفیے کا موقع ضائع ہوسکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر جنوبی افغانستان سے اطلاعات ہیں کہ نیٹو افواج کے ایک راکٹ حملے میں آٹھ فوجی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے چار کا تعلق بلغاریہ سے اور چار کا رومانیہ سے تھا۔ جس وقت یہ حملہ کیا گیا، بلغاریہ کے وزیر دفاع قندہار میں فضٰائیہ کے ہوائی اڈے کا دورہ کر رہے تھے لیکن وہ محفوظ رہے۔




















