ہیٹی میں دس امریکی شہری گرفتار

ہیٹی میں حکام نے دس امریکی شہریوں کو غیر قانونی طور پر تیس سے زیادہ بچوں کو ملک سے باہر لے جاتے ہوئے حراست میں لے لیا ہے جبکہ امریکہ نے ہیٹی زلزلے کے زخمیوں کی بذریعہ ہوائی جہاز امریکہ منتقلی کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے کام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ہیٹی کی حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ دس امریکی شہریوں کو ڈومینکن رپبلک کی سرحد سے حراست میں لیا گیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ دس امریکی تیس سے زیادہ بچوں کو بغیر قانونی دستاویزات اور اجازت ناموں کے ملک سے باہر لے جانا چاہتے تھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ان بچوں کو امریکیوں کے بقول ڈومینکن رپبلک میں ایک یتیم خانے میں لے جایا جا رہا تھا۔
ترجمان نے بتایا کہ ان کے پاس ایسے کوئی دستاویزات نہیں تھیں جن سے یہ ثابت ہو سکے یہ بچے حالیہ زلزلے میں یتیم یا لاواث ہوئے ہیں اور یہ ان کو ملک سے باہر لیے جانے کی اجازت ہے۔ ان امریکی شہریوں کا تعلق ایک چرچ سے ہے اور ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ان کو مطلوبہ اجازت نامے حاصل ہیں۔
ہیٹی میں نے بچوں کو گود لینے پر یہ کہہ کر پابندی لگا دی ہے کہ امدادی کام کرنے والے بہت سے انسانی اعضاء فروخت کرنے کے لیے بچے غائب کر رہے ہیں۔
دریں اثنا امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ہیٹی زلزلے کے زخمیوں کو امریکہ منتقل کرنے کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے کام کر رہا ہے۔ وائٹ ہاوس کے ترجمان کا کہنا ہے زخمیوں کی منتقلی کو روکنا کسی سرکاری پالیسی کا حصہ نہیں تھا بلکہ متعدد لاجسٹک مشکلات کی وجہ سے زخمیوں کی منتقلی کو روکنا پڑا اور اب حکام اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

ترجمان نے ان خبروں کی تردید کی کہ منتقلی کا عمل اس لیے روکا گیا کہ امریکہ میں زخمیوں کے علاج معالجےکا معاوضہ کون ادا کرے گا۔خیال رہے کہ اس عمل کو منسوخ کرنے سے پہلے کوئی پانچ سو کے قریب زخمیوں کو امریکی ریاست فلوریڈا منتقل کیا جا چکا تھا۔
اس سے قبل امریکی ڈاکٹروں نے شدید زخمیوں کو ہوائی جہاز کے ذریعے امریکہ منتقل کرنے کے عمل کو منسوخ کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ہیٹی میں موجود امریکہ کے ایک سینیر ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر زخمیوں کو امریکہ منتقل کرنے کا عمل شروع نہیں کیا گیا تو بڑی تعداد میں زخمیوں کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر بارتھ گرین نے خبردار کیا کہ ہوائی جہازوں کے ذریعے زخمیوں کی منتقلی کے عمل کو بحال نہیں کیا گیا تو ’ایسے بچے جن کی چھاتیاں بری طرح زخمی اور وہ مصنوعی عمل تنفس کی مشینوں پر ہیں اس کے علاوہ ایسی ہی صورتحال سے دوچار چند جوان افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے‘۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت ہیٹی میں آنے والے تباہ کن زلزلے سے زخمی ہونے والے لاکھوں افراد زیر علاج ہیں لیکن وہ صرف ان میں سے صرف چند سو کو ہی امریکہ بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر گرین کے مطابق یہ ایک چھوٹا مسئلہ نہیں ہے۔
خیال رہے کہ امریکی فوج نے گزشتہ بدھ کو زخمیوں کو ہوائی جہاز کے ذریعےامریکی شہر فلوریڈا منتقل کرنے کا عمل روک دیا تھا۔






















