نیٹو کی غلطی سات افغان پولیس والے ہلاک

افغانستان کی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ کندوز کے صوبے میں نیٹو فوج کے ایک فضائی حملے میں غلطی سے افغان پولیس کی ایک گاڑی نشانہ بن گئی جس میں پولیس کے سات اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ہلمند صوبے میں آپریشن مشترک کے دوران دو برطانوی فوجیوں کی ہلاک کی اطلاع ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایک برطانوی فوجی ناد علی کے علاقے میں طالبان کی فائرنگ کا نشانہ بنا جبکہ دوسرا فوجی ایک بم دھماکے میں ہلاک ہوا۔
افغان وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان نے کہا سات پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بارے میں کہا ہے نیٹو افواج کی طرف سے شدت پسندوں پر فضائی حملہ کیا جا رہا تھا لیکن اس کا نشانہ افغان پولیس کی ایک گاڑی بن گئی۔
سرکاری ترجمان کے مطابق نیٹو کی افواج نے یہ فضائی حملہ نیٹو دستوں اور افغان سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر کندوز صوبے میں امام صاحب کے قریب شدت پسندوں کی طرف سے حملے کے جواب میں کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
نیٹو نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے میں پوری تفصیلات اکھٹا کیئے جانے تک کوئی بیان جاری نہیں کریں گے۔
دریں اثنا افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں جاری نیٹو اور افغان سکیورٹی فورسز کی ’مشترک‘ کے نام فوجی کارروائی کے پانچوں دن اطلاعات ہیں کہ طالبان کی طرف سے مزاحمت جاری ہے تاہم انھیں اسلحہ اور بارو کی کمی کا سامنا ہے۔’

نیٹو کے حکام نے دعوی کیا ہے کہ مرجہ میں طالبان کا اسلح ختم ہو رہا ہے اور انھوں نے کمک طلب کی ہے۔
بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے قندہار سے اطلاع دی ہے کہ نیٹو کو طالبان کے درمیان پیغامات کے تبادلے سے پتہ چلا ہے کہ مرجا میں طالبان نے کمک طلب کر لی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہلنمد میں نیٹو افواج کی قیادت میں جاری کارروائی کو اب چھ دن ہو چکے ہیں۔
نیٹو فوجی افسران نے قندہار میں بی بی سی کے سکیورٹی امور کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کو بتایا کہ انھیں اب جس مزاحمت کا سامنا ہے وہ طالبان کے چھوٹے چھوٹے مگر پرعزم گروہ کی طرف سے ہو رہی ہے اور جن کا بظاہر آپس میں کوئی رابطہ نظر نہیں آتا۔
اگلے چند دنوں میں امریکی اور افغان سکیورٹی فورسز جنوب مغربی مرجا کی طرف پیش قدمی کرنے والی ہیں جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ہو طالبان کا ایک مضبوط گڑھ ہے۔
ہلمند صوبے میں قبائلی کونسل کے ایک راہنما نے بی بی سی پشتو کو بتایا کہ علاقے کی طویل المعیاد سکیورٹی کا انحصار اس بات پر ہے کہ مقامی لوگوں کو کسی حد تک پولیس اور مقامی انتظامیہ میں شمولیت دی جاتی ہے۔
حاجی عبدالرحمان صابر نے کہا کہ جب تک مقامی لوگوں کو پولیس اور سکیورٹی کی ذمہ داریاں نہیں دی جاتیں اس علاقے کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ اگر پولیس میں مقامی لوگ شامل ہوتے تو مرجا پر قبضہ کرنے میں دو دن نہیں لگنے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ہلمند کی آبادی اپنے آپ کو افغانستان کی مرکزی حکومت سے علیحدہ یا کٹا ہوا تصور کرتی ہے۔
بدھ کے روز امریکی میرین کو اس وقت فضائیہ کی مدد لینے پڑی جب ان پر بنکروں اور گھروں میں چھپے ہوئے طالبان کی طرف سے شدید ترین فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔
ایک دیہاتی نے جو ہلمند صوبے کے مرکزی شہر لشکر گاہ پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تھا بی بی سی پشتو سروس کو بتایا کہ اس کے غزیز رشتہ دار بارودی سرنگوں کی وجہ سے مرجا سے نکل نہیں سکے۔
انھوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص اب گھر سے باہر جھانکنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے نیٹو کی افواج کی طرف سے گولیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مقامی لوگوں کے پاس خوارک کا ذخیرہ ختم ہو گیا ہے۔
دریں اثناء کچھ دن قبل افغان اور طالبان کے درمیان مالدیپ میں تین روزہ مذاکرات کی خبروں کی تصدیق ہو گئی ہے۔



















