’طالبان شہریوں کو ڈھال بنا رہے ہیں‘

مرجہ کے شہری
،تصویر کا کیپشنمرجہ میں اس وقت بھی بڑی تعداد میں عام شہری موجود ہیں جن کے گھروں کو طالبان استعمال کرتے ہیں

افغان فوج کے ایک سینئیرکمانڈر جنرل غوری نے الزام لگایا کہ صوبہ ہلمند میں طالبان لڑائی کے دوران شہریوں کو اغوا کرکے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

جنرل غوری نے دعویٰ کیا کہ صوبہ ہلمند میں جاری فوجی آپریشن مشترک میں افغان فوجیوں نے خود دیکھا ہے کہ طالبان جنگجو گھروں کی چھتوں پر عورتوں اور بچوں کے پیچھے سے فائر کر رہے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے افغان جنرل کے حوالے سے لکھا ہے کہ خصوصاً مرجہ کے جنوب میں جنگجو جس احاطے سے فائرنگ کر رہے ہیں وہاں کی چھتوں اور کھڑکیوں میں عورتیں اور بچے واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نیٹو اور افغان فوجی جوابی کارروائی سےگریز کر رہے ہیں جس کے باعث یہاں پیش قدمی کی رفتار سست ہے۔

لشکر گاہ میں موجود صحافی جواد دواری نے بی بی سی پشتو سروس کو بتایا کہ مرجہ کے رہائشی علاقوں میں طالبان بڑی تعداد میں موجود ہیں اور وہ اپنے ٹھکانوں کا بھاری ہتھیاروں کے ساتھ دفاع کر رہے ہیں۔

’ افغان اور نیٹو فوج کے لیے مشکل ہے کہ وہ مرجہ پر ایک بھرپور حملہ کریں کیونکہ اس میں بڑی تعداد میں وہاں موجود عام لوگوں کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے، جب بھی اتحادی افواج کی جانب سے حملہ کیا جاتا ہے تو طالبان شہریوں کے گھروں میں پناہ لے لیتے ہیں۔‘

صوبہ ہلمند میں طالبان کے ایک مضبوط گڑھ مرجہ میں امریکی فوج کو طالبان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے جہاں شہر کے اطراف میں کئی مقامات پر طالبان کے مورچوں سے مشین گنوں سے بھاری گولہ باری کی جا رہی ہے، تاہم اس کے قریبی شہر نادِ علی میں فوج تیزی سے پیش قدمی کررہی ہے۔

صوبہ ہلمند میں طالبان کے خلاف نیٹو اور افغان افواج کا مشترکہ آپریشن مشترک پانچویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ مرجہ میں طالبان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے جس کے بعد امریکی فوج نے طالبان کےگڑھ مرجہ پر قبضے کے لیےگن شپ ہیلی کاپٹرز طلب کر لیے۔

نیٹو اور افغان فوج کے پندرہ ہزار فوجی اس کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔آپریشن مشترک میں فوج کو طالبان کے تیار کردہ دیسی ساختہ بموں کا بھی سامنا ہے۔ جب کہ شہر میں پیش قدمی کے لیے برطانوی فوجی انجینئیرز مرجہ کے ارد گرد بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کر رہے ہیں۔

افغان فوج کے سربراہ جنرل بسم اللہ خان نے خبر رسا ں ادارے ائے ایف پی کو بتایا ہے کہ طالبان کی جانب سے خود ساختہ بموں کے استعمال کی وجہ سے آپریشن میں کامیبابی کی رفتار سست ہے۔اس کے ساتھ ساتھ علاقے میں امن کو دیرپا بنانے کے لیے مقامی آبادی سے صلاح مشورے بھی جاری ہیں۔ ایک اعلیٰ فوجی کمانڈر نے نامہ نگاروں کو بتایا ہے کہ زیادہ مزاحمت غیر ملکی جنگجووں جن میں عرب اور پاکستانی شامل ہے کی جانب سے ہو رہی ہے اور خدشہ ہے کہ وہ خودکش حملے کر سکتے ہیں۔

دریں اثنا جنوبی افغانستان میں برطانوی فوج کے کمانڈر میجر جنرل نک کارٹر نے بتایا ہے کہ مرجہ میں منگل کو ایک گھر پرگرنے والا راکٹ غلطی سے نہیں بلکہ اپنے ہدف پر لگا تھا کیونکہ ہلاک ہونے والوں میں تین طالبان بھی شامل ہیں۔

اس سے پہلے یہ اطلاع ملی تھی کہ راکٹ ایک گھر پر گرنے سے چھ بچوں سمیت بارہ شہر ی ہلاک ہوگئے اور یہ کہ راکٹ اپنے ہدف کے بجائے بھٹک گیا تھا۔

واضح رہے کہ نیٹو کے اس علاقے میں کمانڈر جنرل نک کارٹر کا کہنا ہے کہ فوج شہریوں کو جانی نقصان سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ اسی لیے ہوائی حملوں میں بہت زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کیاجا رہا ہے۔

اسی دوران صوبہ ہلمند کے گورنر کے ترجمان احمدی نے بتایا ہے کہ مرجہ سے نقل مکانی کرنے والے پندرہ سو خاندانوں کو صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ میں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

قندھار سے بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ ملک کے شمال میں برطانوی فوج کو افغان فوج اور پولیس کی وردیاں ملی ہیں جو چوری کی گئی ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ طالبان کا افغان فوج کی وردی میں حملے کرنے کا منصوبہ تھا۔

افغانستان میں سال دو ہزار ایک میں طالبان کی حکومت گرنے کے بعد سے صوبہ ہلمند میں یہ سب سے بڑا آپریشن بتایا جا رہا ہے۔ جس میں اب تک کی اطلاع کے مطابق دو فوجی مارے گئے ہیں۔