جنداللہ کے سربراہ ریگی’گرفتار‘

ریگی کو جلد ہی عدالتی حکام کے حوالے کردیا جائے گا: ایرانی حکام

ایران کے سرکاری ٹیلیویژن کے مطابق حکام نے شدت پسند تنظیم جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی کو گرفتار کر لیا ہے۔

عربی زبان کے چینل العالم کے مطابق ریگی کو مشرقی ایران سے گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم اس چینل نے مزید تفصیلات نہیں دیں۔

ایران کے مطابق ریگی سیستان بلوچستان صوبے میں کئی بم دھماکوں اور دیگر وارداتوں میں ملوث ہیں۔

فارس خبر رساں ایجنسی نے ایرانی انٹیلیجنس ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ریگی کے ساتھ ان کی تنظیم کے دو ارکان بھی گرفتار کیے گئے ہیں۔فارس کو مقامی عدلیہ کے اہلکار نے بتایا کہ ریگی کو منگل کی صبح گرفتار کیا گیا۔ ’ریگی ابھی انٹیلیجنس کی حراست میں ہیں لیکن جلد ہی انھیں عدالتی حکام کے حوالے کر دیا جائے گا‘۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ریگی ایک طیارے کے ذریعے پاکستان کے راستے ایک عرب ملک جا رہا تھا۔ ایرانی حکام نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’ان کے جہاز کو اترنے کو کہا گیا اور جہاز کی تلاشی کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا‘۔

جند اللہ سنہ دو ہزار دو میں قائم کی گئی تھی اور اس کا مقصد ایران کے جنوب مشرق علاقے میں بلوچی اقلیت کی مفلسی کی طرف توجہ دلانا تھا۔

پچھلے سال اکتوبر میں ایران کے صوبے سیستان بلوچستان میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں ساٹھ کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ایران نے عبدالمالک ریگی کی تنظیم جند اللہ کو اس واقعے کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور پاکستان سے احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ حملہ آور پاکستان سے ایران میں داخل ہوئے تھے۔

پاسدارنِ انقلاب کے زمینی دستوں کے سربراہ بریگیڈیر جنرل محمد پاکپور نے ایرانی حکام پر زور دیا تھا کہ انھیں پاکستان کی سرحد عبور کر کے وہاں موجود جنداللہ کے شدت پسندوں پر حملے کی اجازت دی جائے۔پاکستان کے دفترِ خارجہ نےان الزامات کو مسترد کیا تھا۔

سیستان بلوچستان کے گورنر جنرل کے مطابق ریگی کو ایک دلیرانہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ کارروائی سکیورٹی فورسز کے لیے ایک بڑی کامیابی اور ایرانی قوم کے لیے خوش خبری ہے۔