کرزئی کی نیٹو کی مذمت

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے پیر کو نیٹو افواج کی فائرنگ سے چار شہریوں کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس واقعہ کو بلا جواز قرار دیا۔
نیٹو کے فوجیوں نے قندھار سے مغرب میں ایک بس پر فائرنگ کر دی تھی۔ اس واقعے میں ایک عورت اور ایک بچہ بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں جبکہ اٹھارہ لوگ زخمی ہوئے۔
صدر کرزئی نے کہا کہ نیٹو نے لڑائی میں شہریوں کو محفوظ رکھنے کے وعدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد قندھار میں مظاہرے ہوئے۔
مظاہرین میں شامل ایک شخص نے کہا کہ ’ہم امریکیوں کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہمارے لوگوں کو مارا ہے اور ہماری گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے میرے بھائی کو مارا ہے۔ وہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ امریکی فوجیوں کی وجہ سے ہم یہ سڑکیں نہیں استعمال کر سکتے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے یہ ان کا ملک ہے ہمارا نہیں۔ یہ ہمارا ملک ہے۔ یہ امریکہ نہیں۔ یہ میرا اپنا ملک ہے اور میں اس میں ایک آزاد شہری کی طرح رہنا چاہتا ہوں۔‘
ایک اور شخص فضل احمد نے واقعے کے بارے میں بتایا کہ ’شہریوں سے بھری ہوئی بس امریکی کانوائے سے سو میٹر دور تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے بس پر فائرنگ کر دی۔ بس میں ساٹھ لوگ سوار تھے جن میں سے چھ شہید ہو گئے اور اٹھارہ لوگ زخمی ہوئے۔‘
افغان حکام کے مطابق نیٹو کے فوجیوں نے ملک کے جنوب میں چار شہریوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ قندھار کے گورنر کے ترجمان زلمئے ایوبی نے کہا کہ فوجیوں نے قندھار کے مغرب میں ایک بس پر فائرنگ کی۔ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔
نیٹو کے ترجمان نے کہا کہ واقعے کی تفتیش کے لیے ایک ٹیم روانہ کر دی گئی ہے۔

















