تعلقات میں کشیدگی: کرزئی کا ہیلری کو فون
افغان صدر حامد کرزئی نے امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن سے کہا ہے کہ افغان عوام بین الاقوامی برادری کی طرف سے دی گئی قربانیوں کے حوالے سے شکر گزار ہے۔
کرزائی کے بیان کو اقوام متحدہ کے سابق سفیر پیٹر گیلبرتھ نے بھی مسترد کر دیا تھا
افغان صدر نے یہ فون دونوں ملکوں میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے کیا تھا۔ یہ کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب جمعرات کو حامد کرزئی نے اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے حکام پر گزشتہ سال افغانستان میں صدارتی انتخابات کے دوران بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبز نے صدر حامد کرزئی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو ’تکلیف دہ‘ قرار دیا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان پی جے کراؤلی نے حامد کرزئی اور ہیلری کلنٹن کی بات چیت کو مثبت قرار دیا۔
کراؤلی نے بتایا کہ ہیلری کلنٹن نے افغان صدر سے کہا کہ دونوں ممالک کو افغانستان کو مستحکم کرنے کے مشترکہ مقصد ہر توجہ دینی چاہیے۔
یاد رہے کہ کابل میں ایک تقریر کے دوران حامد کرزئی نے کہا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ سال ہونے والے صدارتی اور صوبائی انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی تھی۔ انھوں نے اُس وقت کابل میں اقوام متحدہ کے نائب سربراہ پیٹر گیلبرتھ اور یورپی یونین کے سربراہ فلپ موریلون کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔
امریکہ نے کہا تھا کہ وہ افغان صدر حامد کرزئی کی طرف سے غیر ملکی مبصرین پر افغان صدارتی انتخابات کےدوران بدعنوانیوں کے الزامات کے بارے میں وضاحت طلب کرے گا۔
















