حکومت پر تنقید، جنرل کی واپسی

افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل سٹینلے مککرسٹل کو اوباما انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکاروں اور سفیروں پر تنقید کے بعد واشنگٹن واپس بلایا جا رہا ہے۔

جنرل مککرسٹل

جنرل سٹینلے ککرسٹل نے جریدے رولنگ سٹون کے لیے لکھے گئے اس مضمون پر معذرت کر لی ہے جس میں انہوں نے انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکاروں پر تنقید کی تھی۔

مضمون میں جنرل مککرسٹل نے کابل میں امریکی سفیر کارل ایکنبری کے بارے میں کہا تھا کہ انہوں نے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

امریکی جنرل کے معاونین کے مطابق وہ صدر اوباما سے بھی ’مایوس‘ تھے۔ دریں اثناء امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ میں کہا گیاہے کہ امریکی فوج لاکھوں ڈالر افغان سکیورٹی فرموں کو دیتی رہی ہے جن سے یہ پیسے جنگی سرداروں کو پہنچتے رہے ہیں۔

رولنگ سٹون میں مذکورہ مضمون جمعہ کو شائع ہوگا لیکن جنرل مککرسٹل نے اس سے ہونے والے ممکنہ نقصان کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ ’میں اس مضمون پر معافی مانگتا ہوں۔‘ ’یہ ایک غلطی تھی جو کبھی نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘

جنرل مککرسٹل نے کہا کہ وہ صدر اوباما، ان کی سکیورٹی امور کی ٹیم اور اس لڑائی میں شامل فوجی اور غیر فوجی اہلکاروں کا پورا احترام کرتے ہیں اور اس لڑائی میں کامیابی ان کا عزم ہے۔

نیٹو کے ترجمان نے کہا کہ ایسے مضمون کی اشاعت ’بدقسمتی‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل اینڈرز فوگ ریسموسین کو جنرل مککرسٹل کی صلاحیتوں پر پورا اعتماد ہے۔

شمالی افغانستان میں بی بی سی کے نامہ نگار کوینٹن سومرویل نے کہا کہ رولنگ سٹون میں شائع ہونے والا مضمون امریکی انتظامیہ اور اور فوج کے درمیان دیرینہ اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔

مضمون کا ایک مرکزی ہدف کابل میں امریکی سفیر تھے۔ جنرل مککرسٹل نے کہا کہ امریکی کانگریس میں افغانستان میں مزید فوجی بھیجنے کے معاملے پر ہونے والی بحث کے دوران انہوں نے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی تھی۔

جنرل مککرسٹل نے کہا کہ امریکی سفیر اپنے آپ کو مستقبل میں تنقید سے بچانے کے لیے کام کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تاریخ کے کتابوں میں اچے نظر آنا چاہتےتھے۔

ایک موقع پر ایسا محسوس ہوا کہ جنرل مککرسٹل امریکی نائب صدر کا مذاق اڑا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’کیا آپ نائب صدر بائڈن کے بارے میں بات کر رہے ہیں؟ وہ کون ہے‘۔

جنرل مککرسٹل کے ایک معاون نے ان کی صدر اوباما سے ملاقات کو تصویر اتروانے کے لیے دس منٹ کی ملاقات قرار دیا۔ جنرل کے معاون نے کہا کہ اوباما ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے اور نہ ہی انہوں نے ان کی باتوں پر زیادہ دھیان دیا۔ ’باس بہت مایوس تھے‘۔

جنرل مککرسٹل مضمون میں کہتے ہیں کہ وہ بہت تکلیف دہ وقت تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسی تجویز پیش کر رہی تھے جو کوئی نہیں ماننا چاہتا تھا۔