افغانستان، تین امریکی فوجی ہلاک

افغانستان میں تعینات بین الاقوامی فوج کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی حصہ میں سڑک کے کنارے نصب بم کے پھٹنے سے تین امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔
نیٹو افواج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دھماکے سے دو فوجی موقعے پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ایک نے ہسپتال جاتے ہوئے دم توڑ دیا۔
نیٹو نے کہا کہ ان تینوں فوجیوں کا تعلق امریکی فوج سے تھا۔ نیٹو فوج نے ان فوجیوں کے بارے میں اس سے زیادہ کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔
جنوبی افغانستان میں طالبان کا اثرو رسوخ بہت زیادہ ہے اور ملک کے اس حصے میں پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ نے حال میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے تاکہ حالات کو قابو میں لایا جا سکے۔
سڑکے کے کنارے بم نیٹو افواج کے خلاف طالبان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے اور افغانستان میں ہلاک ہونے والے غیر ملکی فوجیوں کی بڑی تعداد ان ہی بموں کا نشانہ بنی ہے۔
جون کے مہینے میں غیر ملکی فوج کو گزشتہ نو برس کے دوران افغانستان میں سب سے زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا جب اس کے ایک سو تین فوجی ہلاک ہو گئے تھے جن میں سے ساٹھ فوجیوں کا تعلق امریکہ سے تھا۔
دریں اثنا افغان حکام کے مطابق نیٹو کے فرینڈلی فائر میں پانچ افغان فوجی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان نے ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں افغان فوجیوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ صوبہ غزنی میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب افغان فوجی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مصروف تھے کہ نیٹو کے جہاز نے افعان فوجیوں کو طالبان سمجھ کر ان پر فائرنگ کر دی۔ انھوں نے بتایا کہ اس واقعے میں پانچ افغان فوجی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔
کابل میں نیٹو کے ترجمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اس واقعہ پر افسوس ہے۔



















