’امریکی سلامتی خطرےمیں ڈالی گئی‘

افغانستان میں امریکی فوجی(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشندستاویزات امریکہ کے دشمنوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہیں: رابرٹ گیٹس

امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے خفیہ فوجی دستاویزات کے منظر عام پر آنے کے واقعے کی تحقیق کے لیے تفتیشی ادارے ایف بی آئی کی امداد طلب کر لی ہے۔

اتوار کے روز وکِی لیکس نامی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی نوے ہزار دستاویزات کا تعلق افغانستان میں جاری امریکی کارروائی سے ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ دستاویزات کا منظر عام پر آنا امریکی فوجیوں اور ان کے اتحادیوں کے لیے نقصان کا باعث ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جاننے کے لیے بھرپور تفتیش کی جائے گی کہ یہ کیسے شائع کی گئی ہیں۔

وکی لیکس ویب سائٹ کے مطابق مذکورہ دستاویزات سن دو ہزار چار سے سن دو ہزار نو کے درمیان مختلف امریکی فوجی یونٹوں نے مرتب کی تھیں۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ان دستاویزات کے سامنے آنے سے دنیا کے اہم خطے میں امریکہ کی ساکھ اور اس کے وہاں اپنے اتحادیوں سے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان دستاویزات کی مدد سے امریکہ دشمنوں کو اس کی فوجی حکمت عملی اور فوجی اہلیت کے بارے میں اہم ملعومات حاصل ہو سکتی ہیں۔

وکی لیکس نے کہا کہ انہوں نے پوری احتیاط کی ہے کہ اس دستاویزات کے سامنے سے کسی بیگناہ کو نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ یہی سوچ کر پندرہ ہزار دستاویزات شائع نہیں کی گئیں۔

جن دستاویزات کو شائع کیا گیا ہے ان میں سے سن دو ہزار سات کی ایک رپورٹ میں اشارہ دیا گیا ہے کہ لڑائی میں شہریوں کی ہلاکتوں کی خبر کو کس طرح چھوٹا بنا کر پیش کیا جا سکتا ہے۔

شائع ہونے والی ایک اور رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی افغانستان میں لڑائی کے دوران طالبان کی حمایت کی تھی۔ پاکستان اس الزام کی سختی سے تردید کر چکا ہے۔