افغانیوں کے نام حذف کرنے کا مطالبہ

حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے وکی لیکس ویب سائٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افشا ہونے والی امریکی فوجی رپورٹس میں سے افغان شہریوں کے نام حذف کر دے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کو معلومات فراہم کرنے والے افغان باشندوں کی نشاندہی سے ان کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
افغانستان میں طالبان امریکہ اور اتحادی افواج کی مدد کے الزام میں سینکڑوں شہریوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔
افغان جنگی ڈائری کے عنوان سے وکی لیکس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تمام دستاویزات افغان جنگ سے متعلق ہیں۔
حقوقِ انسانی کی تنظیموں کے مطابق انہوں نے اس سلسلے میں ویب سائٹ کے بانی جولین آسانگ سے بذریعہ ای میل درخواست کی ہے۔
افغان انڈیپنڈنٹ ہیومن رائٹس کمیشن کے نادر نادری کے مطابق ’عام شہریوں کی زندگی کو بالکل مدِ نظر نہیں رکھا گیا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم کہتے ہیں کہ مستقبل میں ناموں کو چھپایا جانا چاہیے اور جو پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں انہیں ہٹا دینا چاہیے۔ اگرچہ اب دیر ہو چکی ہے لیکن پھر بھی یہ کام ہو جانا چاہیے‘۔
جولین آسانک نے ان دستاویزات کی اشاعت کے فیصلے کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ وکی لیکس نے اس بات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی کہ معصوم انسانی جانیں خطرے کا شکار نہ ہوں۔
خیال رہے کہ امریکہ نے ان دستاویزات کی اشاعت کو ’غیر ذمہ دارانہ عمل‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے قومی سلامتی پر آنچ آ سکتی ہے جبکہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ جس پیمانے پر دستاویزات افشا ہوئی ہیں وہ ان کے لیے حیران کن ہے تاہم ان کے مطابق ان میں موجود زیادہ تر مواد پرانا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















