’حکومتی لاپرواہی،چار ملین بچوں کی ہلاکت‘

فائل فوٹو، سیلاب سے متاثرہ بچے
،تصویر کا کیپشنچند ممالک نے غریب طبقوں پر توجہ دے کر بچوں کی اموات کو کم کیا ہے: یونیسیف

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم’ سیو دی چلڈرن‘ کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سال میں چالیس لاکھ بچے صرف اس لیے ہلاک ہوئے کیونکہ ریاستیں غریب ترین افراد کی مدد کرنے میں ناکام رہیں۔

’سیو دی چلڈرن‘ کا کہنا ہے حکومتوں کی جانب سے غریب طبقوں کی مدد کرنے سے ان چالیس لاکھ اموات کو روکا جا سکتا تھا۔

ادھر اقوام متحدہ کے بچوں کے لیے کام کرنے والے ایجنسی یونیسیف نے بھی امیر اور غریب پس منظر سے تعلق رکھنے والے بچوں میں وسیع تقسیم کو اجاگر کیا ہے۔

یہ رپورٹس امریکی شہر نیویارک میں دو ہفتوں بعد منعقد ہونے والے ملینیئم گول اجلاس سے پہلے سامنے آئی ہیں۔

بچوں کی اموات کو وسیع پیمانے پر روکنے کا ہدف سب سے زیادہ نظر انداز ہوا ہے۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں بیس فیصد امیر گھرانوں کے برعکس بیس فیصد غریب ترین گھرانوں میں بچوں کی اموات دوگنی ہے اور یہ صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔

دونوں ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ چند ممالک نے غریب ترین طبقوں پر توجہ دے کر بچوں کو حیرت انگیز طور پر کم کیا ہے۔ دونوں رپورٹس میں پیغام دیا گیا ہے کہ ایک ملک کو امیر ہونے میں مدد دینے سے یہ لازمی نہیں کہ زیادہ بچوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔

بچوں کی عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ بہت سے ترقی پذیر ممالک بچوں کی اموات کو روکنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے بہتر پس منظر سے تعلق رکھنے والے طبقوں کے بچوں کی زندگیاں بچ جاتی ہیں لیکن بہت زیادہ مستفید نہ ہونے والے طبقوں میں ایسا نہیں ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک خطرناک رجحان ہے۔