اٹلی: نالوں میں رہنے والے بچے

اٹلی
،تصویر کا کیپشنافغان بچے ٹرکوں اور ٹرالروں میں چھپ کر ترکی اور یونان سے اٹلی آئے

اٹلی کی پولیس کو ایسے 100 سے زائد ایسے تارک وطن بچے ملے ہیں جو روم میں زیر زمین گندے پانی کے نکاس کے نالوں میں رہ رہے تھے۔ ان بچوں میں 24 افغان بچے بھی شامل ہیں۔

بچوں کی عمریں 10 سے 15 کے درمیان ہیں اور یہ زیر زین روم کے ریلوے سٹیشنوں کے نیچے گندے پانی کے نکاس کی بڑی بڑی نالیوں میں رہ رہے تھے۔ اب یہ بچے شہر کی سوشل سروسز کی نگرانی میں ہیں۔

ان نالوں پر ایسی اطلاعات کے بعد ریلوے پولیس نے چھاپہ مارا کہ سٹیشنوں کے نزدیک بہت سے بچے کسی مقام پر رپائش پذیر ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ بچے اطالوی زبان نہیں بول سکتے اور یہ مین ہول کے ڈھکن کھول کر نالیوں میں جاتے ہیں۔ اٹلی کی ’سیو دی چلڈرن‘ تنظیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک سے بہت سے بچے روم آئے تھے اور ان بچوس کی نگرانی کے لیے کوئی بڑا ان کے ساتھ نہ تھا۔

روم کی ریلوے پولیس کو اطلاع دی گئی تھی کہ بے شمار بے گھر تارک وطن بچے روم کے تین بڑے ریلوے سٹیشنں کے نزدیک نہایت گندی اور صحت کے لیے نقصاندہ آب و ہوا میں رہ رہے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ افغان بچے ٹرکوں اور ٹرالروں میں چھپ کر ترکی اور یونان سے اٹلی آئے تھے۔ پولیس نے بتایا کہ جب چھاپہ مارا گیا تو شدید ٹھنڈ میں چند بچے ریلوے سٹیشن کے نیچے نالوں میں سو رہے تھے۔

بچوں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں مختلف ممالک سے یہاں آنے والے کم سن بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

حال ہی میں اٹلی میں ہی غیر قانونی طور پر اٹلی میں آنے والے چینی اور بنگلہ دیشی نژاد تارکین وطن پکڑے گئے تھے جو کہ نہایت چھوٹے چھوٹے کمروں میں رہ رہے تھے یعنی ایک کمرے میں بیس سے زیادہ افراد۔

روم میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ ولی کا کہنا ہے کہ جونہی حکام ان غیر قانونی افراد کو ایسے مقامات سے دوسری رہائشگاہوں میں منتقل کرتے ہیں، ان مقامات پر نئے غیر قانونی تارکین وطن آبستے ہیں۔