ہالینڈ کابینہ: اسلام مخالف پارٹی کی مدد

گیرت وائلڈرز
،تصویر کا کیپشناقلیتی کابینہ کو وائلڈرز کی فریڈم پارٹی کی حمایت حاصل ہو گی

ہالینڈ کی ملکہ بیٹرکس نے لبرل پارٹی کے رہنما سے کہا ہے کہ وہ اسلام مخالف گیرت وائلڈرز کی پارٹی کی مدد سے کابینہ تشکیل دیں۔

ہالینڈ میں مارک رُٹ کرسچن ڈیموکریٹ کے ساتھ مل کر حکومت کی قیادت کریں گے۔

اقلیتی کابینہ کو وائلڈرز کی فریڈم پارٹی کی حمایت حاصل ہو گی جو حکومت سے باہر رہ کر کام کرے گی۔

ہالینڈ کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں نقاب پر مکمل پابندی عائد کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

رواں ہفتے کے شروع میں فلم ’فتنہ‘ بنا کر نفرت پھیلانے کے الزام میں گیرت وائلڈرز کے خلاف ایمسٹرڈیم میں مقدمے کی کارروائی کا آغاز ہوا تھا۔ اس فلم میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کو امریکہ میں گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک میں ہونے والے حملوں کے مقابل رکھا گیا ہے۔

حکومت سنہ دو ہزار پندرہ تک ملک کے بجٹ میں اٹھارہ ملین یورز کی کمی کرنا چاہتی ہے۔

اِس کے علاوہ حکومت امیگریشن قوانین میں سختی اور پولیس افسران کی تعداد بھی بڑھانا چاہتی ہے۔

ہالینڈ کی پارلیمان ایک سو پچاس ارکان پر مشتمل ہے جبکہ لبرل اور کرسچن ڈیموکریٹ اتحاد کے پاس باون نشستیں ہیں۔

اِس اتحاد کو پارلیمان سے کسی بھی قانون سازی کی منظوری کے لیے وائلڈرز کی فریڈم پارٹی کے چوبیس ارکان کی حمایت لینا پڑے گی۔

مخلوط حکومت کی اس ممکنہ ڈیل نے متعدد ارکانِ پارلیمان کو ناراض کر دیا ہے اور وہ وائلڈرز کی فریڈم پارٹی کے ساتھ مل کر کام نہیں کرنا چاہتے۔

ہالینڈ میں رواں برس فروری سے ایک نگران حکومت کام کر رہی ہے۔ یہ اس وقت ہوا جب سی ڈی اے کے سابق رہنما جان پیٹر کی حکومت افغانستان میں فوجی تنازعے کی وجہ سے ختم ہو گئی تھی۔