’امریکہ مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے‘

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ایک سینئیر اہلکار نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ عراقی فوجیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کروائے۔ اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکہ اس آگاہی کے باوجود نظر بندوں کو عراقی فوجیوں کے حوالے کرتا رہا کہ وہاں ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اہلکار ناوی پیلے کا کہنا ہے کہ امریکہ اور عراقی حکام کو اُن افراد کو انصاف کے کٹہرے تک لانا چاہیے جو غیر قانونی ہلاکتوں، سرسری سماعت کے بعد سزائے موت دینے اور تشدد کے مرتکب ہوئے ہیں۔
یہ شواہد انٹرنیٹ پر خفیہ معلومات شائع کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس کی جانب سے افشاء کی گئی امریکی فوج کی خفیہ دستاویزات میں سامنے آئے ہیں۔
اسی دوران تشدد کے خلاف اقوام متحدہ کے خصوصی نمائیندے مینفریڈ نواک نے امریکی صدر باراک اوباما پر زور دیا ہے کہ وہ بقول انکے امریکی خفیہ اداروں اور فوج میں رائج تشدد کے طریقوں کی تفصیلی تحقیقات کروائیں۔
امریکی محکمہ دفاع نے ان کلاسیفائیڈ یا خفیہ دستاویزات کی پردہ کشائی کی سختی سے مذمت کی تھی۔
تحقیقات نہیں کروائیں گے، امریکی محکمہ دفاع
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگن نے کہا ہے کہ اسکا عراق کی جنگ کے دوران انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے جو گزشتہ روز انٹرنیٹ پر خفیہ معلومات شائع کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس کی جانب سے افشاء کی گئی امریکی فوج کی خفیہ دستاویزات میں سامنے آئی ہیں۔
بی بی سی نیوز کو دیے گئے ایک تحریری بیان میں امریکی فوج کے ترجمان کرنل ڈیو لیپن نے مزید کہا کہ امریکی پالیسی، تشدد کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جب الزامات ہی عراقیوں کے ہاتھوں عراقیوں پر تشدد سے متعلق ہوں تو امریکی فوجیوں کا کردار اس سے زیادہ نہیں ہوتا کہ انہوں نے جو کچھ دیکھا وہ اپنے اعلی حکام تک رپورٹ کردیں اور پھر متعلقہ حکام یہ شہادتیں عراقی حکام تک پہنچا دیں۔

امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مائیک مولن نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وکی لیکس کے اس اقدام کو غیرذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وکی لیکس نے کئی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا ہے اور امریکہ کے دشمنوں کو قیمتی معلومات فراہم کی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن وکی لیکس کے بانی جولین اسانش نے اپنے اس اقدام کا دفاع کرتے کہا ہے کہ اس معلومات کے انکشاف کا مقصد عراق کی جنگ کے متعلق حقائق کو سامنے لانا ہے۔
عراقی وزیر اعظم کی برہمی
ادھر عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کے دفتر نے ان دستاویزات کو منظر عام پر لانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور اسے ان کی حکومت سازی کی کوششوں کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔
عراق میں اس سال مارچ میں ہونے والے انتخابات میں کوئی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکی تھی جس کے بعد سے حکومت سازی کا عمل سات ماہ گزرجانے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بغداد کے لوگوں کو وکی لیکس کی جانب سے افشاء کی گئی معلومات پر کوئی خاص حیرت تو نہیں ہوئی ہے لیکن اس نے ملک میں سیاسی شعلوں کو مزید بھڑکا دیا ہے۔






















