وکی لیکس معلومات ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ ہے، ایرانی صدر
ایرانی صدر احمد نژاد نے وکی لیکس کی طرف سے جاری کی جانے والی دستاویزات میں ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے بارے میں عرب ملکوں کے سربراہوں کے بیانات کو محض پروپیگنڈا قرار دیا اور امریکہ نے یہ معلومات افشاء کرنے کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ فعل قرار دیا ہے۔
پروپیگنڈا ہے: ایران

ایرانی صدر نے وکی لیکس دستاویزات میں ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے بارے میں عرب ملکوں کے سربراہوں کے بیانات کو محض پروپیگنڈا قرار دیا۔
ایرانی ٹیلی وثرن پر ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کسی کو بھی ان معلومات پر اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
’ ہم یہ نہیں سمجھتے کے یہ خفیہ معلومات افشاء ہوگئیں، بلکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قصداً شائع کرائی گئیں ہیں۔‘
وکی لیکس ویب سائٹ پر شائع کردہ معلومات میں شامل پیغامات سنہ 1966 سے فروری سنہ 2010 کے درمیان بھیجے گئے ہیں اور ان میں دنیا بھر کے ممالک میں واقع دو سو چوہتر امریکی سفارتخانوں کی جانب سے واشنگٹن میں امریکی محکمۂ خارجہ کو بھیجی گئی معلومات شامل ہیں۔
ایرانی صدر محمود احمدی نثراد نے کہا ہے وکی لیکس میں شائع ہونے والے تمام سفارتی پیغامات دراصل ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ ہیں۔
انھوں نے کہا وکی لیکس کی معلومات ایران کے عرب ملکوں کے ساتھ سفارتی تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوگی۔
تاہم ہمارے نامہ نگار جیمز رینلڈ کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ یہ ایک واضح ثبوت سامنے آیا ہے کہ ایران تنہا اور خطرے میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی حکومت اس بارے میں اپنی تشویش کا ذکر بر سر عام نہیں کرے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ایرانی صدر کا بیان اس امر کا عکاس ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر امریکی اقدام بہت منظم اور اسلامی دنیا میں اختلافات کو ہوا دینے کے لیے ہوتا ہے۔
سفارتکار اور جاسوسی

وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے 2008 میں مختلف ملکوں میں اپنے سفارتکاروں کو ایسی خفیہ معلومات جمع کرنے کی ہدایات جاری کیں جن سے سفارتی اور جاسوسی فرائض میں فرق غیر واضح ہوکر رہ گیا۔
امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے دستاویز کے مطابق سفارت کاروں کو اقوام متحدہ اور دوسرے ملکوں میں اہم شخصیات کے کریڈٹ اور بزنس کارڈز کی تفصیلات جمع کرنے، ان کے اوقات کار اور دوسری ذاتی معلومات جمع کرنے کی بھی ہدایات جاری کی گئیں۔
<link type="page"><caption> وکی لیکس کو اوباما انتظامیہ کا انتباہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/11/101128_wikileaks_warning_fz.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> وکی لیکس کی ویب سائٹ پر ہیکرز کا حملہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/11/101128_wikileaks_hacked_si.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’اتحادیوں سے تعلقات خراب ہونے کا خدشہ‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/11/101126_wikileaks_us_allies_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
تاہم مشرق وسطیٰ، مشرقی یورپ، لاطینی امریکہ اور اقوام متحدہ میں امریکی مشن کو جو پیغامات ارسال کیے گئے، اُن میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ امریکی سفارت کاروں نے دوسرے ملکوں کے خفیہ قومی معلومات چرانے کی کوشش کی جو عموماً ملک کی انٹیلیجنس ایجنیسیاں کرتی ہیں۔
افغانستان، الجیریا اور بحرین میں سابق امریکی سفیر رونلڈ ای نومین ایک دستاویز میں یہ شکوہ کرتے ہوئے پائے گئے کہ واشنگٹن ان سے دیگر ملکوں کے بارے میں مسلسل وسیع پیمانے پر معلومات بھیجنے کا تقاضہ کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے یہ ناقابل فہم ہے کہ مختلف شخصیات کے کریڈٹ کارڈز کے نمبر وغیرہ جمع کرنے کا مطالبہ فارن سروس کے افسران سے کیوں کیا جارہا ہے جن کے پاس اس طرح کی خفیہ معلومات جمع کرنے کی تربیت نہیں ہے۔
’سب سے پہلے میری تشویش یہ ہے کہ آیا سفارت کار ذمے دارانہ طریقے سے اور کسی مشکل میں پھنسے بغیر ایسا کرسکیں گے یا نہیں، اور دوسرے یہ کہ ایسا کرنے میں اُن کا جو وقت صرف ہوگا اُس سے ان کے اپنے معمول کے فرائض انجام دینے میں کتنا حرج ہوگا۔‘
اسی طرح مارچ دو ہزار آٹھ میں لکھے گئے ایک اور خط میں پیراگوئے میں تعینات ایک سفارت کار سے پیراگوئے، برازیل اور ارجنٹائین کے سرحدی علاقے میں القاعدہ، حزب اللہ اور حماس کی موجودگی کے بارے میں دریافت کیا گیا۔
انکشافات کی مذمت

امریکہ نے کہا ہے کہ ایسی معلومات سے اس کے سفارتکاروں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ اوباما انتظامیہ مستقبل میں ایسی خفیہ معلومات کی اشاعت رکوانے کی بھر پور کوششیں کر رہی ہے۔ سرکاری ایجینسیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ خفیہ معلومات تک تمام عملے کی رسائی ممکن نہ ہو اور عملے کو صرف وہ ہی دستاویز فراہم کی جائیں جو اُن کے فرائض کی انجام دہی کے لیے ضروری ہو۔
محکمہ دفاع ’ پینٹا گون‘ کا کہنا ہے کہ کہ مستقبل میں معلومات کی لیک کو روکنے کے لیے کمپوٹر نظام کو مزید محفوظ بنایا جا رہا ہے۔
ان معلومات میں سے پندرہ ہزار چھ سو باون کو خفیہ معلومات کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اب تک وکی لیکس نے اپنی ویب سائٹ پر دو سو بیس پیغامات شائع کیے ہیں جبکہ ویب سائٹ کی جانب سے نیویارک ٹائمز اور گارڈین سمیت پانچ میڈیا گروپس کو پہلے ہی تمام پیغامات کی نقول فراہم کر دی گئی ہیں۔
برطانیہ کا بھی کہنا ہے کہ ان فائلوں کی اشاعت قومی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ان معلومات کا افشا کیا جانا ایک ’لاپرواہی‘ تھی اور اس سے سفارتکاروں اور دیگر افراد کی جان کو خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔
امریکی کانگریس کے ایک ری پبلکن رکن نے وکی لیکس کو ’دہشتگرد تنظیم‘ قرار دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ’اس قسم کے انکشافات ہمارے سفارتکاروں، خفیہ اہلکاروں اور ایسے افراد کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں جو جمہوریت کے فروغ میں مدد دینے کے لیے امریکہ آتے ہیں۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’صدر اوباما امریکہ اور دنیا بھر میں ذمہ دار اور قابلِ مواخذہ حکومتوں کے حامی ہیں لیکن یہ لاپرواہ اور خطرناک اقدامات اس مقصد کے مخالف ہیں‘۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کی ہوم لینڈ سکیورٹی کمیٹی کے رکن پیٹر کنگ نے کہا ہے کہ تازہ انکشافات وکی لیکس کے مالک کی ’دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش ہیں اور یہی نہیں بلکہ ان سے عراق اور افغانستان میں اتحادی افواج کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے‘۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک سابق اہلکار ایرون ملر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان انکشافات سے امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے تعلقات متاثر ہونے کا امکان نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ کوئی بھی وکی لیک بنیادی یا ڈرامائی طور پر امریکہ اور اس کے مشرقِ وسطٰی یا دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے اتحادی ممالک کے باہمی تعلقات کو تبدیل نہیں کر سکتی‘۔
برطانوی دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں ان انکشافات کو قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا ہے جبکہ وزارتِ دفاع نے اخبارات کے مدیران پر زور دیا ہے کہ وہ معلومات شائع کرتے ہوئے ’ان کے قومی سلامتی پر پڑنے والے اثرات کو مدِنظر رکھیں‘۔
برطانوی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے ان پیغامات کی اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ حکومتیں کسی راز کے راز رہنے کی بنیاد پر کام کر سکیں۔
ایران کا ایٹمی پروگرام

ان پیغامات کے مطابق متعدد عرب رہنماؤں اور ان کے نمائندوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ ایران پر حملہ کر کے اس کا مبینہ جوہری پروگرام ختم کر دے۔
سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ نے بارہا امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کا ایٹمی پروگرام تباہ کرنے کے لیے ایران پر حملہ کرے۔ امریکہ میں سعودی سفیر عادل الجبیر نے سنہ 2008 میں امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹریس کو ایک ملاقات میں بتایا کہ سعودی شاہ چاہتے ہیں کہ امریکہ ’سانپ کا پھن کچل دے‘۔
<link type="page"><caption> ایران: ایٹمی پلانٹ نے کام شروع کردیا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/11/101127_iran_nuke_operational_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’جوہری پروگرام پر بات نہیں ہو گی‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/11/101110_iran_nuclear_ha.shtml" platform="highweb"/></link>
پیغام کے مطابق بحرین اور اردن کے حکام نے کھلے الفاظ میں کہا کہ کسی بھی طرح ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنا ہی ہوگا چاہے فوجی کارروائی ہی کی ضرورت کیوں نہ پڑے۔
دستاویزات کے مطابق بحرین کے شاہ حماد بن عیسٰی الخلیفہ نےامریکہ سے کہا کہ وہ ایران کو ’ہر ممکن طور پر‘ روکنے کی کوشش کرے جبکہ ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید نے امریکی حکام کو بتایا کہ ان کا یہ ماننا ہے کہ ایران ’ہم سب کو جنگ کی جانب دھکیل رہا ہے‘۔
ان دستاویزات میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں اسرائیل کے تحفظات کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور کیسے اسرائیل خطے میں اپنی اجارہ داری قائم رکھنا چاہتا ہے اور اسی حوالے سے اسرائیل خود ہی ایران کے خلاف کارروائی کرنے کو تیار ہے۔
جون دو ہزار نو میں اسرائیلی وزیرِ دفاع ایہود باراک نے کہا تھا کہ اُس وقت چھ سے اٹھارہ ماہ کا وقت ہے جس میں ایران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ ’اس عرصے کے بعد کسی قسم کی کارروائی میں شہریوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔‘
افغانستان

ان خفیہ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ کیسے سفارتکار اپنی میٹنگ کے بارے میں بتاتے ہیں اور کیسے مذاکرات میں دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کو پوری تفصیلات دینے سے گریز کرتی ہیں۔
ایسے ہی خفیہ دستاویز میں سب سے زیادہ دلچسپ مثال امریکی عہدیداروں کی افغان صدر حامد کرزئی کے بھائی احمد ولی کرزئی سے ستمبر دو ہزار نو اور پھر فروری دو ہزار دس سے ملاقات کی ہے۔
<link type="page"><caption> حامد کرزئی کی سوچ یکسر کیوں بدل گئی؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/11/101121_karazai_angy_why_ra.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> امریکہ اپنے آپریشنز کم کرے: کرزئی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/11/101114_karzai_us_nj.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> روس، امریکہ کارروائی پر کرزئی کی تنقید</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/10/101030_hamid_karzai_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
اس دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ولی کرزئی کڑک سفید شلوار قمیض میں ملبوس تھے اور کچھ پریشان تھے لیکن قندھار میں غیر ملکیوں کی موجودگی کے بارے میں بات کرنے کے لیے بے تاب تھے۔ وہ امریکیوں کا اعتماد جیتنے کے لیے امریکی شہر شکاگو میں واقع ایک ریسٹورنٹ کی باتیں کرتے رہے۔
اس دستاویز میں پھر لکھا ہے ’نوٹ: ہمیں ولی کرزئی سے روابط رکھنے پڑیں گے کیونکہ وہ صوبائی کونسل کے سربراہ ہیں۔ لیکن ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بدعنوان ہیں اور منشیات کے سمگلر ہیں۔‘
رواں سال فروری میں ایک ملاقات کے بعد دستاویز میں دونوں جانب سے دھوکے بازی کا ذکر ہے۔
دستاویزات میں افغان صدر حامد کرزئی کو ایک ’انتہائی کمزور‘ اور سازشی خیالات کو مان لینے والا شخص قرار دیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حامد کرزئی کو نہیں معلوم کہ ہمیں ان کی حرکات و سکنات کے بارے میں کتنا علم ہے۔ ہمیں ان کی حرکات و سکنات پر مزید گہری نظر رکھنی ہو گی اور ان کو وقتاً فوقتاً باور کرانا ہوگا کہ ہم کس حد تک برداشت کر سکتے ہیں‘۔
ایک اور دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پچھلے سال جب افغانستان کے نائب صدر نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تو انسداد منشیات کے ادارے کو معلوم ہوا کہ وہ اپنے ساتھ 52 ملین ڈالر نقد رقم لائے ہیں۔
کابل میں امریکی سفارتخانے کی ایک کیبل میں کہا گیا ہے کہ ’یہ ایک بہت بڑی رقم تھی جو احمد ضیاء مسعود کے پاس تھی اور بعد میں انہیں یہ رقم اپنے پاس رکھنے کی اجازت دے دی گئی‘۔ (مسعود نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ وہ نقدی ملک سے باہر لے کر گئے تھے)
مزید دستاویزات

دہشت گردی کے حوالے سے دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اب بھی بشمول القاعدہ کے سنی شدت پسند تنظیموں کو فنڈ مہیا کرتا ہے ۔
گزشتہ سال دسمبر کی ایک دستاویز میں کہا گیا ہے کہ قطر کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار نہایت مایوس کن ہے۔ اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ قطر کے حکام شدت پسندوں کے خلاف کارروائی اس لیے نہیں کرتے کہ انہیں ڈر ہے کہ یہ تاثر قائم نہ ہو جائے کہ قطر امریکہ کا ساتھ دے رہا ہے اور شدت پسند حملے نہ شروع کر دیں۔
سنہ دو ہزار سات میں امریکہ نے جرمنی کو بڑی سختی سے تنبیہہ کی تھی کہ وہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی ایجنٹوں کے خلاف مقدمہ دائر نہ کرے۔ سی آئی اے کے ایک ناکام آپریشن کے دوران ایک بےگناہ جرمن شہری اس وقت ہلاک ہوا تھا کیونکہ اس کا نام ایک شدت پسند کے نام سے مماثلت رکھتا تھا۔ اس شہری کو سی آئی اے نے اغوا کیا اور کئی ماہ افغانستان میں رکھا تھا۔
دستاویز کے مطابق ایک سینیئر امریکی سفارتکار نے جرمنی کے حکام سے کہا کہ امریکہ کا مقصد دھمکی دینا نہیں بلکہ صرف یہ باور کرانا ہے کہ جرمنی کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے یہ جانچ لے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات پر کیا اثر پڑے گا۔






















