’وکی لیکس ہمارے درمیان نہیں آ سکتیں‘

حامد کرزئی اور ڈیوڈ کیمرون
،تصویر کا کیپشن برطانوی فوج پر جس تنقید کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ اس زمانے کی ہے جب ہلمند میں زیادہ فوجی نہیں تھے: کیمرون

برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون اور افغان صدر حامد کرزئی نے امریکی سفارتی دستاویزات کے منظرِ عام پر آنے سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کو زیادہ اہمیت نہیں دی ہے۔

ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ وکی لیکس جن میں سے ایک میں حامد کرزئی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ برطانیہ ہلمند میں امن قائم کرنے کے ’قابل نہیں‘، دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط رشتے کے درمیان میں نہیں آنی چاہئیں۔

حامد کرزئی نے کہا کہ انھوں نے ہلمند میں برطانیہ کی ’محنت‘ کی تعریف کی تھی۔ کابل میں اپنے صدراتی محل میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ڈیوڈ کیمرون کے ’اچھے دوست‘ ہیں۔

افغان صدر کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے وکی لیکس میں جو باتیں سامنے آئی ہیں ان میں ’کچھ تو سچ ہے لیکن کچھ زیادہ سچ نہیں‘۔

ان سفارتی دستاویزات میں سنہ دو ہزار سات سے سنہ دو ہزار نو کے درمیان ہلمند میں برطانوی فوج کی سکیورٹی کی صورتِ حال کو قابو میں لانے کی کوشش پر کڑی نکتہ چینی کی گئی ہے۔

وکی لیکس کے انکشافات کے مطابق امریکی اہلکار اور افغان صدر حامد کرزئی اس خیال کے حامل تھے کہ برطانوی فوج بغیر کسی مدد کے اپنے طور پر ہلمند کو محفوظ نہیں بنا سکتی۔ افغان صدر کے بارے میں اطلاع ہے کہ انھوں نے کہا کہ جب (برطانوی فوجیوں کی مدد کے لیے) امریکی میرینز کو ہلمند بھیجا گیا تو انھیں اطمینان ہوگیا۔

منگل کو جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے الفاظ پر معافی مانگیں گے تو حامد کرزئی نے کہا: ’برطانیہ افغانستان اور افغان عوام کا ایک ثابت قدم حمایتی رہا ہے۔ برطانیہ نے اپنے فوجیوں کی قربانی دی ہے، افغانستان کو اپنا خون دیا ہے اور وسائل فراہم کیے ہیں جس کے لیے افغان عوام برطانیہ کے انتہائی شکر گزار ہیں۔‘

مسٹر کیمرون نے کہا کہ برطانوی فوج پر جس تنقید کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ اس زمانے کی ہے جب ہلمند میں زیادہ فوجی نہیں تھے۔’میں نہیں چاہتا کہ وکی لیکس ہمارے مضبوط تعلقات کی راہ میں آئیں‘۔

حامد کرزئی نے اس بات کی تردید کی کہ انھوں نے برطانیہ کی فوجی حکمتِ عملی پر تنقید کی اور کہا ’میں یقین سے کہہ سکتا ہوں اس حوالے سے افغانستان اور کسی دوسرے ملک کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ البتہ بات چیت یہ ہوئی تھی کہ طالبان ایک بڑے حصے پر غلبہ حاصل کر رہے تھے جس کا ازالہ نہیں ہو پا رہا تھا۔‘