’حملے وکی لیکس کا دفاع کیسے ہیں‘

ماسٹر کارڈ
،تصویر کا کیپشنان ویب سائٹوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو حکومت کے دباؤ میں کام کر رہی ہیں: وکی لیکس کے حامی

نامعلوم افراد کے گروپ میں شامل ‘کولڈ بلڈ’ نامی ایک رکن نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ وہ ویزا اور ماسٹر کارڈ پر حملوں کو وکی لیکس کا دفاع کیوں سمجھتے ہیں۔

وکی لیکس نوازوں یا وکی لیکس کے حامیوں کے اس گروپ کی جانب سے حملوں کی نوعیت کی وضاحت بھی کی گئی ہے۔

اس بے نام گروپ کا کہنا ہے کہ وہ ہیکر نہیں صرف ‘عام حیثیت کے انٹرنیٹ شہری’ ہیں اور یہ کارروائی اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ وکی لیکس کے خلاف کی جانے والی کارروائی کو غیر منصفانہ سمجھتے ہیں۔

اس گروپ کا کہنا ہے کہ اسے کریڈت کارڈز کی تفصیلات چوری کرنے یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے آن لائن خریداری کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں۔

یہ تفصیلات آن لائن ان گروپوں کی طرف سے جاری کی گئی ہیں جن کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے لیے وہ سرگرم ہیں۔

دس دسمبر کو شائع کی جانے والی تفصیلات میں ان کا کہنا ہے کہ ‘بے نام یا اینونیمس’ کوئی ایک گروپ نہیں ہے بلکہ ہم خیالی کی بنیاد پر جمع ہو جانے والا ایک انٹرنیٹ اجتماع ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایک علامتی کارروائی ہیں جن کا مقصد ان کارپوریٹ اداروں کو متنبہ کرنا ہے جنہوں نے وکی لیکس کے لیے کام کرنا بند کر دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ‘ہمیں ماسٹر کارڈ، ویزا، پے پال یا امیزان کا انفرا سٹرکچر تباہ کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں’۔

اس بیان سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ یہ گروپ غالباً اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ گروپ کسی کی ہدایات کے تابع نہیں بلکہ ایک تصور کی بنیاد پر اپنی کارروائیاں کر رہا ہے۔

لیکن اس سوال کا کہ کیا یہ حملے غیر قانونی ہیں؟ قانون کے ماہرین پر مشتمل ایک ادارے پینسینٹ کے لیگل ڈائریکٹر سٹروآن روبرٹسن انتہائی مختصر جواب صرف ہاں میں دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں رہتے ہوئے ان حملوں میں حصہ لینا کمپیوٹر مس یوز ایکٹ یعنی کمپیوٹر کے غلط استعمال کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کسی پر اس قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو جائے تو اسے دس سال قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ اس سے متعلق سافٹ ویئر کو ڈاؤن لوڈ کرنا بھی جرم کے ارتکاب میں مدد دینے کے مترادف ہے اور اس پر برطانیہ میں دو سال قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

تاہم مختلف ممالک اس بارے مختلف قانون اور سزائیں رکھتے ہیں تاہم سکیورٹی ماہر پیٹر ووڈ کا کہنا ہے کہ عملی طور پر ان حملوں میں ملوث لوگوں کا پتہ لگانا انتہائی دشوار ہے کیونکہ اس کے لیے جو سافٹ ویئر استعمال کیا جا رہا ہے وہ انہیں بے نام کر دیتا ہے اور ان کی ساری کارروائی کی تفصیلات غائب ہو جاتی ہیں۔