ویزا اور ماسٹر کارڈ حملوں کا نشانہ

وکی لیکس کے حامیوں نے ان مالی اداروں کی ویب سائٹوں کو نشانہ بنایا ہے جو ’جولین اسانژ کے خلاف کارروائی میں امریکی حکومت کے ساتھ ہیں۔‘
کمپیوٹر حملہ آوروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کریڈٹ کارڈ کے گروپ ماسٹر کارڈ کی ویب سائٹ ناکارہ کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسٹر کارڈ نے ویب سائٹ وکی لیکس کو سہولت دینا بند کی تھی جس کے جواب میں یہ کارروائی کی گئی ہے۔
وکی لیکس کے حامیوں کی طرف سے ہونے والے ان حملوں کا نام ’آپریشن پے بیک‘ رکھا گیا ہے۔ ان حملوں میں ویزا، سوٹزرلینڈ کے ایک بینک، پوسٹ فنانس اور انٹرنیٹ پر ادائیگیوں کی کمپنی پے پیل کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
پے پیل کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ انہوں نے امریکی محکمۂ خارجہ کی طرف سے ایک خط کے بعد وکی لیکس کے ساتھ اپنا کاروبار بند کر دیا تھا۔ اس خط میں وکی لیکس کی کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔
ماسٹرکارڈ ی طرف سے ادائیگیوں کا نظام متاثر ہوا تھا لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ صارفین کو ان کا کارڈ استعمال کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ ویزا کی ویب سائٹ کو بھی ان حملوں کے نتیجے میں مشکلات پیش آئی تھیں۔
حملے کرنے والوں نے ٹوِٹر پر دعویٰ کیا کہ انہوں نے ویزا کی ویب سائٹ کو بند کر دیا ہے۔ تاہم ویزا کی ویب سائٹ بعد میں بحال ہو گئی تھی اور کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ ویب سائٹ معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔
اسی دوران ٹوِٹر کا وہ صفحہ جہاں وکی لیکس کے حامی آپریشن پے بیک کے بارے میں پیغامات لکھ رہے تھے غائب ہو گیا۔ ٹوِٹر نے لکھا کہ یہ اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا ہے۔
ٹوِٹر نے کہا کہ وہ کسی ایک اکاؤنٹ کے بارے میں کارروائی پر تبصرہ نہیں کرتے تاہم بی بی سی کو معلوم ہوا وکی لیکس کے حامیوں کی طرف سے بنائے گئے ’اینونِیمس‘(anonymous)اکاؤنٹ سے جاری کیے گئے آخری پیغام کے ساتھ ایک فائل کا لنک بھی تھا جس میں لوگوں کے کریڈٹ کارڈ کی معلومات تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سکیورٹی فرم نیٹ کرافٹ نے جو وکی لیکس کے حامیوں کے حملوں پر نظر رکھے ہوئے ہے کہا کہ ویزا پر حملے کے لیے بڑی تعداد میں ’ہیکٹیوسٹ‘(وہ لوگ جو سیاسی بنیادوں پر ویب سائٹوں کو حملوں کا نشانہ بناتے ہیں) ضروری تھے۔ انہوں نے کہا کہ ماسٹر کارڈ کے لیے چار سو کے مقابلے میں ویزا کی ویب سائٹ پر حملے کے لیے دو ہزار ضروری تھے۔
اینونیمس کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ان ویب سائٹوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو حکومت کے دباؤ میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکی لیکس اب صرف خفیہ دستاویزات شائع کرنے والی ویب سائیٹ نہیں بلکہ یہ حکومت اور عوام کے درمیان جنگ کا میدان چکی ہے۔







