آسٹریلیا: ستائیس تارکین وطن ہلاک

کشتی
،تصویر کا کیپشنیہ کشتی ساحل کے قریب پتھروں سے ٹکرا گئی

آسٹریلیا کے ایک امیگریشن مرکز کی جانب جانے والی کشتی ساحل کے قریب ڈوبنے سے کم از کم ستائیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

آسٹریلیا کی وزیراعظم جولیا گیلارڈ نے متنبہ کیا ہے کہ کشتی سے مزید لاشیں ملی سکتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کشتی میں کتنے افراد سوار تھے۔

حکام کے مطابق اب تک اس واقعے میں کم از کم ستائیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ بیالیس کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔

خیال ہے کہ یہ کشتی آسٹریلیا کے جزیرے کرِسمس آئلینڈ پر پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی اور ان کے بارے میں خیال ہے کہ یہ پناہ گزین تھے اور امیگریشن کے اس حراستی مرکز تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔

کرسمس آئلینڈ سے عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ یہ کشتی ساحل کے قریب پتھروں سے ٹکرا گئی۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ کشتی کے مسافر پانی سے مدد کے لیے چیخ رہے تھے۔

کچھ لوگوں کو پانی سے با حفاظت نکال لیا گیا ہے لیکن عینی شاہدوں کے مطابق سمندر میں ’بہت سی لاشیں ہیں جن میں عورتیں اور چھوٹے چھوٹے بچے بھی شامل ہیں۔‘ جزیرے کے رہائشیوں نے بتایا کہ انہوں نے لوگوں کے لیے ساحل سے رسیاں اور حفاظتی جیکٹ پانی میں پھینکے لیکن وہ موجوں کی شدت سے نمٹ نہ سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ چالیس افراد کو پانی سے زندہ نکالا جا سکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس کشتی پر سوار تارکین وطن میں بیشتر افراد کا تعلق عراق اور ایران سے تھا۔

کرسمس آئلینڈ کے امیگریشن مرکز میں اس وقت تین ہزار کے قریب لوگ موجود ہیں جو آسٹریلیا میں رہنا چاہتے ہیں اور جن کے کیس زیر غور ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں سمندری راستے سے آسٹریلیا آنے والے پناہ گزینوں میں اضافہ ہوا ہے۔

کرسمس آئلینڈ بحر ہند میں آسٹریلیا سے شمال مغرب میں بارہ سو کلومیٹر اور انڈونیشیا کے جنوب میں تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔