سپین:تمباکو نوشی کے خلاف قانون کا نفاذ

سپین میں تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے روزآنہ ایک سو ساٹھ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں
،تصویر کا کیپشنسپین میں تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے روزآنہ ایک سو ساٹھ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں

سپین میں تمباکو نوشی کے خلاف سخت قانون نافذ العمل ہو گیا ہے۔

تمباکو نوشی کے خلاف اس قانون کے تحت تمام ریستورانوں اور شراب خانوں میں سگریٹ پینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ٹی وی کے پروگراموں، ہسپتالوں کے قریب اور سکولوں کے میدانوں میں بھی سگریٹ پینے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

سپین میں دو ہزار چھ میں تمباکو نوشی پر جو پابندیاں متعارف کرائی گئی تھیں اس قانون کے ذریعے ان میں مزید سختیاں کر دی گئی ہیں۔

یہ قانون یورپ میں تمباکو نوشی کے خلاف سخت ترین قوانین میں سے ایک ہے۔

سپین میں ایک مضبوط کیفے کلچر ہے اور شراب خانوں اور کیفے کے مالکان نے شکایت کی ہے کہ اس قانون سے ان کا کاروبار متاثر ہوگا۔ ان کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ ان کے کاروبار میں دس فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔

ہوٹل، شراب خانوں اور ریستورانوں کی انڈسٹری ملک کی خراب معاشی صورتحال کی وجہ سے پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔

لیکن ڈاکٹروں کا موقف ہے کہ اس قانون سے تمباکو نوشی کرنے والوں کو یہ عادت ترک کرنے میں مدد ملے گی۔

سپین میں تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے روزآنہ ایک سو ساٹھ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں جن میں سے چار بالواسطہ تمباکو نوشی کے نتیجے میں مر جاتے ہیں۔