انقلاب میں کیا یکساں اور کیا مختلف؟

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
انقلاب کم وقت میں آسکتا ہے اور پرتشدد ہو سکتا ہے یا پھر آہستہ آتا ہے اور پرامن ہوتا ہے۔ ہر انقلاب مختلف ہوتا ہے لیکن کچھ پیٹرن ہر انقلاب میں ہوتے ہیں۔ جیسے کہ مصر کے انقلاب میں یہ پیٹرن دیکھنے کو ملے۔
ٹروٹسکی نے کہا تھا کہ اگر غربت ہی انقلاب کی وجہ بنتی ہے تو دنیا میں ہر وقت انقلاب ہی آتے رہیں گے کیونکہ دنیا میں زیادہ تر لوگ غریب ہیں۔ سڑکوں پر لاکھوں غیرمطمئن لوگوں کو سمت دینے کے لیے ایک وجہ چاہیے۔
پچھلے تیس سالوں میں آئے انقلابوں میں لوگوں کو تشدد کے نتیجے میں ہوئی موت نے سمت دی۔ چند بار یہ وجہ نہایت پرتشدد ہوتی ہے جیسے کہ 1978 میں سینکڑوں افراد ایران کے سینما میں مارے گئے جس کا الزام شاہ ایران کی خفیہ پولیس پر ڈالا جاتا ہے۔
لیکن کئی بار ایک شخص کی خودکشی بھی ہجوم کو اکٹھا کر دیتی ہے جیسے کہ پچھلے سال بیس دسمبر کو تیونس میں محمد موعزیزی کی خودکشی تھی۔
کئی بار افواہیں بھی لوگوں کو اکٹھا کر دیتی ہیں۔ جیسے کہ 1989 میں پراگ میں کمیونسٹ پولیس نے دو طلبہ کے گلے کاٹ دیے۔
موت نے چین میں بھی 1989 میں وہی کام کیا اگرچہ کہ یہ موت تشدد کے باعث نہیں ہوئی تھی۔ اس موت کے بعد چینی طلبہ نے بیجنگ کے تیانیمن سکوائر پر قبضہ کر لیا اور کمیونسٹ پارٹی کی بدعنوانی اور آمرانہ طرزِ حکومت کے خلاف مظاہرے کیے۔
اگرچہ بیجنگ میں ہوئے اس مظاہرے نے لوگوں کو بتا دیا کہ کس طرح مظاہرے کیے جاتے ہیں اور کسی طرح شہر کے اہم سکوائرز پر قبضہ کرتے ہیں لیکن یہ مظاہرے واضح طور پر ’لوگوں کی طاقت‘ کی ناکام مثال تھی۔
دوسرے عمر رسیدہ آمروں سے مختلف طور پر چینی رہنما ڈینگ ژیاؤپنگ نے نہایت پھرتی اور چالاکی سے مظاہرین کا سامنا کیا۔ ان کی حکومت نے کروڑوں چینی کسانوں کے لیے بہتر زندگی مہیا کی تھی اور انہی کسانوں کو بھیجا گیا کہ وہ مظاہروں کو ناکام بنائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 1998 کے مارچ میں انڈونیشیا کے رہنما سہارتو کے دوبارہ منتخب ہونے پر مظاہرے ہوئے۔ ان مظاہروں میں فائرنگ کے باعث چار طلبہ ہلاک ہوئے۔ ان ہلاکتوں کے باعث مظاہرے پھیل گئے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے۔
اس واقع سے تیس سال قبل سہارتو ہزاروں اور سینکڑوں افراد کو مار سکتا تھا اور اس کو کسی چیز کا خوف نہ ہوتا۔ لیکن بدعنوانی اور ایشیا میں معاشی بحران نے حکومت کی حمایت کو کمزور کر دیا تھا۔ بتیس سالہ اقتدار نے سہارتو اور اس کے قریبی افراد کو امیر سے امیر تر کر دیا جبکہ لوگوں کو غریب۔
حکومت کا اس وقت خاتمہ ہوتا ہے جب حکمران کے قریبی لوگ حکومت کے خلاف ہو جاتے ہیں۔ جب تک پولیس، فوج اور اعلیٰ عہدیدار یہ سمجھیں کہ انقلاب سے ان کو زیادہ نقصان ہوگا تو بڑے بڑے مظاہرے بھی حکومت کا تختہ نہیں الٹ سکتے۔ جیسے کہ تیانیمن سکوائر میں ہوا۔
لیکن اگر یہی لوگ یہ سمجھیں کہ حکومت کی حمایت سے نقصان ہوگا تو وہ حکومت فوراً گر جاتی ہے۔
تیونس کے صدر بن علی نے ملک سے بھاگنے کا اس وقت فیصلہ کیا جب فوج نے ان کو بتا دیا کہ وہ عوام پر گولی نہیں چلائیں گے۔
دسمبر 1989 میں رومانیہ کے رہنما چسسکو کے خلاف جب مقدمہ شروع ہوا تو اس نے دیکھا کہ وہی جنرل جس پر وہ بھروسہ کرتے تھے کہ وہ مظاہرین کو روکے گا، اس عدالت کا چیف جج تھا۔
بیرونی دباؤ بھی حکومت کے تبدیل ہونے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مشرقی یورپی ممالک کو جب مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا تو 1989 میں سوویت رہنما مخائل گورباچوف نے ریڈ آرمی کے استعمال سے انکار کر دیا۔ اس انکار سے ان ممالک کے جرنیلوں کو سمجھ آگئی کہ قوت کا استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
امریکہ نے بارہا اپنے حلیف آمروں پر زور ڈالا ہے کہ وہ سمجھوتا کریں۔ اور ایک بار جب یہ آمر اس سمت پر چل پڑتے ہیں اور ان کی گرفت کمزور پڑ جاتی ہے تو امریکہ ان کو مستعفی ہونے کا کہہ دیتا ہے۔
طویل عرصے سے چلی آرہی حکومت اور حکمرانوں کی زیادہ عمروں کے باعث حکومت ایسی صورتحال میں فوری طور پر اقدامات نہیں کر سکتی۔
انقلاب کی مہم چوبیس گھنٹے چلتی ہے اور اس کے لیے مظاہرین اور حکمرانوں دونوں کو تیز سوچ اور فوری ردِ عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ عمر رسیدہ اور سمجھوتا نہ کرنے والے رہنما کے باعث بحران بڑھ جاتا ہے۔
سرطان کے مرض میں مبتلا شاہ ایران سے مشرقی جرمنی کے بیمار ہونیکر اور انڈونیشیا کے سہارتو تک، کئی دہائیوں تک حکومت میں رہنے کے باعث سیاسی چال بازی ناممکن ہو جاتی ہے۔ جیسے کہ مصر نے ہمیں باور کرایا ہے کہ انقلاب نوجوانوں کا کھیل ہے۔
انقلاب میں باعزت حکومت سے مستعفی ہونا نایاب ہے۔ لیکن ان حکمرانوں کی ریٹائرمنٹ کے لیے کوئی جگہ مل جائے تو ان کے مستعفی ہونے کا عمل تیز ہوجاتا ہے۔
سنہ دو ہزار تین میں جارجیا کے شوردنادزے کو چسسکو سے مشابہت دی جارہی تھی لیکن ان کو مستعفی ہونے کے بعد ان کے گھر پر رہنے دیا گیا۔ سہارتو کے جرنیلوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ سہارتوں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارتے ہوئے انتقال کریں لیکن انہوں نے سہارتو کے بیٹے ٹومی کو جیل میں ڈال دیا۔
اکثر لوگ چاہیے ہیں کہ مستعفی ہونے والے حکمرانوں کو سزا ملے۔ اور ان کے بعد آئی حکومت بھی چاہتی ہے کہ ایسا ہو تاکہ ایسا کرنے سے معاشی اور سماجی مشکلات سے لوگوں کی توجہ ہٹ سکے۔
(ڈاکٹر مارک آمنڈ آکسفورڈ میں تاریخ دان ہیں)





















