ایران کی سڑکوں پر غصے کا بڑھتا ہوا اظہار

،تصویر کا ذریعہAFP
پیر کو ایران میں کئی مقامات پر حکومت کے خلاف پُر تشدد مظاہرے ہوئے جن کی بازگشت سرکاری میڈیا اور انٹرنیٹ دونوں پر سنائی دے رہی ہے۔ ان واقعات کی اہمیت پر تبصرے بھی ہو رہے ہیں اور بحث بھی۔
ایران میں اپوزیشن کی گرین موومنٹ یا ’سبز تحریک‘ کے رہنماؤں کے لیے پیر کو ہونے والا احتجاج ان کے حمایتوں کی جانب سے ایک سال میں طاقت کا سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔ لیکن سخت گیر موقف کے حامل ایک اخبار کے اداریے میں مظاہرین کو ’گندگی کا ایسا ڈھیر‘ قرار دے کے جسے آسانی سے پھینکا جا سکتا ہے، مسترد کر دیا گیا۔
تاہم ایک بات واضح ہے اور یہ کہ ایران میں حکومت اور اپوزیشن کے رہنماؤں کے لیے پیر کو ہونے والے مظاہرے کافی حیران کن تھے۔
یہ حقیقت کہ لوگ سکیورٹی افواج کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آنے پر راضی تھے ظاہر کرتی ہے کہ آبادی کے کچھ طبقات میں موجودہ حکومت کے خلاف اب بھی کتنا زیادہ غصہ ہے۔
ان مظاہروں سے حکومت کے اس دعوے کے کھوکھلا ہونے کا اہمیت بھی اجاگر ہوجاتی ہے کہ کہ گرین موومنٹ کا اثر اور اس کی قوت ختم ہو چکی ہے۔
سنہ دو ہزار نو کے انتخابات کے بعد ایرانی حکومت نے وحشیانہ طریقے سے مظاہروں کو دبایا تھا۔ تب سے حکومت یہی کہتی رہی ہے کہ ایران میں کوئی طاقتور اپوزیشن ہے ہی نہیں۔
پیر کو ایران میں جیسے جیسے مظاہروں کی خبریں آنا شروع ہوئیں اور اپوزیشن کی ویب سائٹس، ایران کی سڑکوں کے حالات کی اطلاعات سے بھرنا شروع ہوئیں، ریاستی میڈیا یہی کہتا رہا کہ ہر جگہ خاموشی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
لیکن منگل کو ایرانی اراکینِ پارلیمان نے جب گزشتہ روز کے واقعات پر بحث کی تو لہجے سے ہی یہ واضح ہوگیا کہ پیر کو جو کچھ ہوا اس پر وہ واقعتاً متفکر ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پہلی مرتبہ ایران کی مجلس یا پارلیمان میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ اپوزیشن کے دو بڑے رہنماؤں میر حسین موسوی اور مہدی کروبی کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ یہی نہیں، پارلیمان میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ ان رہنماؤں کو پھانسی دی جائے۔
یہ تخمینہ لگانا کافی دشوار ہے کہ پیر کو تہران اور دیگر شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں کتنے افراد شریک تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سکیورٹی افواج نے پورا زور لگا دیا تھا کہ مظاہرین کسی ایک مقام پر جمع نہ ہونے پائیں۔
قاہرہ کی تحریر سکوائر کی طرز پر جسے آزادی سکوائر بھی کہتے ہیں، ایرانی مظاہرین بھی تہران کی آزادی سکوائر کی طرف جا رہے تھے لیکن سکیورٹی نے کئی شاہراہیں بند کر دیں جو شہر کے مرکز کی طرف جاتی تھیں۔ لہذا مظاہرین شہر میں ادھر ادھر پھیل گئے۔
یہ ٹھیک وہی حکمتِ عملی ہے جو ایرانی حکام گزشتہ دو سال سے مجموعی طور پر اپوزیشن کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔
تحریک کے بڑے رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کرکے اور دوسروں کو حراست میں لے کر ایرانی حکام نے مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے گرین موومنٹ کے حمایتیوں کو معاشرے کی مختلف سطحوں پر حمایت کا ایک وسیع نیٹ ورک تیار کرنے کی کوششوں سے روک لیا ہے۔
انھوں نے ٹریڈ یونین کے سرگرم رہنماؤں کے خلاف بھی کارروائی کی ہے اور حقوقِ نسواں کے کارکنوں کو بھی نہیں چھوڑا۔ اس کے پیچھے مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ان میں سے کوئی طبقہ بھی مظاہرین میں شامل نہ ہو سکے اور نہ ہوا کا رخ بدلے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
قاہرہ اور تیونس والے مظاہرین ہی کی طرح، ایرانی اپوزیشن کے حمایتی جو اس ہفتے تہران کی سڑکوں پر تھے، بہت بڑی تعداد میں فیس بک کے ممبران ہیں۔
لیکن مصر میں احتجاج کا خاص پہلو یہ تھا کہ مصری فوج اور امریکی انتظامیہ مظاہرین کے پیچھے تھی مگر ایران میں ایسا نہیں ہے۔
ایران کے طاقتور پاسدارانِ انقلاب کسی بھی طرح کی مخالفت کی آواز کے خلاف جنگ میں آگے آگے ہیں۔ اور صدر براک اوباما کی جانب سے حمایت کا اظہار حکومت کو مزید اسلحہ فراہم کرے گا کہ وہ اپوزیشن پر غداری کا الزام عائد کرے’جس کے تانے بانے اسرائیل سے ملتے ہیں‘ اور پھر اسے کچل دے۔
اس ہفتے کے مظاہروں سے اپوزیشن کے طرف داروں میں امید کا ایک نیا احساس جنم لے گا لیکن یہ واضح ہے کہ یہ تحریک ابھی اس طرح کے بنیادی نتائج پیدا نہیں کر سکتی جو ہم نے مصر اور تیونس میں دیکھے ہیں۔
لیکن ایران میں اور ایران سے باہر بھی کچھ مبصرین نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ اپوزیشن اب بدل رہی ہے۔
پیر کو مظاہرین نے جو نعرے لگائے ان میں سے بہت سے نعرے ایرانی ایسٹیبلشمنٹ کے قائدِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف تھے۔ کچھ مظاہرین نے ان کی تصاویر نذرِ آتش کیں تو کچھ نے ان کے لیے موت کا مطالبہ کیا۔ اور سنہ دو ہزار نو کے انتخابات سے پہلے یہ سوچنا بھی ممکن نہیں تھا کہ اس طرح کے نعرے بلند ہو سکتے ہیں اور ایسے مطالبات سامنے آ سکتے ہیں۔
میر موسوی اور مہدی کروبی اب بھی موجودہ نظام کے اندر ہی تبدیلیاں چاہ رہے ہیں لیکن اس ہفتے ایران کی سڑکوں پر غصے کا بڑھتا ہوا اظہار ظاہر کرتا ہےکہ اپوزیشن کے کچھ حمایتی اب ’اصلاح‘ سے مطمئن نہیں ہوں گے اور ان کا مقصد انقلاب ہوگا۔






















