’لیبیا کی مغربی سرحد پر بحرانی صورتحال‘

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ لیبیا کے حالات کی وجہ سے وہاں سے نکل کر تیونس میں پناہ لینے والے افراد میں مسلسل اضافے کی وجہ سے لیبیا اور تیونس کی سرحد پر بحرانی صورتحال پیدا ہو رہی ہے جبکہ اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی سفیر کا کہنا ہے کہ لیبیا کے رہنما معمر قذافی خودفریبی کا شکار ہیں اور وہ قیادت کے قابل نہیں رہے۔ دریں اثناء یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ قذافی کی حامی فورسز لیبیا کے شہر زاویہ پر فضائی حملہ کر سکتی ہیں۔

نقل مکانی سے انسانی بحران

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

لیبیا اور تیونس کی سرحد پر لیبیائی پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ ہفتے کے دوران لیبیا میں جاری تشدد سے تنگ دسیوں ہزاروں افراد سرحد عبور کر کے تیونس میں داخل ہو چکے ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق امدادی کارکن اس مسئلے سے نمٹنے میں ناکام ہیں کیونکہ سرحد پر جمع ہونے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین کی ایک ترجمان میلیسا فلیمنگ کا کہنا ہے کہ بیس فروری سے اب تک لیبیا سے ستّر سے پچھہتر ہزار افراد تیونس منتقل ہو چکے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترجمان کا کہنا تھا کہ ’لیبیا اور تیونس کی سرحد پر موجود ہمارے عملے نے (منگل کی) صبح بتایا ہے کہ وہاں حالات بحران کی شکل اختیار کر رہے ہیں‘۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قریباً دو ہزار افراد ہر گھنٹے لیبیا سے تیونس میں داخل ہو رہے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ ان کے علاوہ بیس ہزار افراد اس وقت بھی لیبیا اور تیونس کی سرحد پر موجود ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق ان افراد میں سے زیادہ تر مصری ہیں جبکہ چینیوں اور بنگلہ دیشیوں کی قابلِ ذکر تعداد بھی سرحد پر موجود ہے۔ بی بی سی کے جم میور کا کہنا ہے کہ مصری باشندے اپنی حکومت سے شدید ناراض ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مصری حکومت نے انہیں بھلا دیا ہے۔

ایک سیاہ فام افریقی پناہ گزین نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ بن غازی سے بھاگ کر آیا ہے کیونکہ حکومت مخالف افراد اسے قذافی حکومت کا کرائے کا قاتل سمجھ رہے تھے۔ ’وہ بن غازی میں سیاہ فاموں کو نہیں دیکھنا چاہتے‘۔

پناہ گزینوں کی بڑی تعداد سڑکوں اور کار پارکنگ میں سونے پر مجبور ہے اور سرد موسم کی وجہ سے بھی متاثرین کو مشکلات کا سامنا ہے۔ نامہ نگاروں نے سرحد پر ایک ایسے شخص کی لاش دیکھی ہے جو سردی سے ہلاک ہوا ہے۔

جم میور کے مطابق اگرچہ پناہ گزینوں میں خوراک تقیسم کی جا رہی ہے لیکن یہ امدادی آپریشن حالات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں عارضی خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں جبکہ ان افراد کو ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں کی مدد سے ان کے آبائی ممالک پہنچانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

پناہ گزینوں کی بین الاقوامی تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ لیبیا سے پناہ گزینوں کے انخلاء کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ تنظیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد سرحدوں پر پڑنے والے دباؤ کوکم کرنا اور اس صورتحال کو وہ شکل اختیار کرنے دینے سے روکنا ہے جہاں اس سے نمٹنا ناممکن ہو جائے۔

ان کے مطابق سرحد پر موجود مصری پناہ گزینوں کو اسکندریہ پہنچانے کے لیے بحری جہازوں کا انتظام کیا گیا ہے جبکہ بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کو خصوصی پروازوں سے ان کے ملک بھیجا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ نائیجر میں داخل ہونے والے افریقی پناہ گزینوں کو بھی امداد کی فراہمی کی تیاریاں کی گئی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک کے سربراہ منگل کو حالات کا جائزہ لینے اور تیونسی اور امدادی حکام سے بات چیت کے لیے لیبیا اور تیونس کے سرحدی علاقے کا دورہ کر رہے ہیں۔

پیر کو ورلڈ فوڈ پروگرام نے تیونس میں موجود متاثرین کے لیے اسّی ٹن اشیائے خوردونوش پہنچائی ہیں۔ تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ادویات سے بھرا ایک جہاز مصر اور لیبیا کی سرحد پر بھی بھیج رہی ہے۔

قذافی کی ’خود فریبی‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر سوزین رائس نے کہا ہے کہ کرنل قذافی ایک خود فریبی کا شکار شخص ہیں اور وہ ایک ملک چلانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت کہ کرنل قذافی بی بی سی سمیت متعدد ذرائع ابلاغ کو دیے گئے انٹرویوز کے دوران ایک ایسے وقت میں سوالات پر ہنستے رہے ’جبکہ وہ اپنے عوام کو ذبح کر رہے ہیں‘، ظاہر کرتی ہے کہ انہیں حقائق کا علم نہیں۔

جینیوا میں اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کے بارے میں کانفرنس میں شریک عالمی وزرائے خارجہ نے بھی ایک بار پھر کرنل قذافی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں۔

اس کانفرنس میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے معمر قذافی اور ان کے حامیوں پر الزام لگایا کہ وہ نہتے شہریوں پر حملے کرنے اور شہریوں پر گولی چلانے سے انکار کرنے والے فوجیوں کو قتل کرنے لیے ’کرائے کے قاتلوں اور غنڈوں‘ کو استعمال کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وقت آگیا ہے کہ مزید تشدد اور توقف کے بغیر قذافی چلے جائیں‘۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اگرچہ امریکی بحریہ کو لیبیا کے پانیوں کے نزدیک تعینات کیا گیا ہے لیکن وہاں کسی فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں ہے۔ ان کا یہے بھی کہنا تھا کہ امریکہ لیبیا کو نو فلائی زون قرار دینے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP

انہوں نے کہا کہ ’نو فلائی زون ایک ایسا راستہ ہے جس پر ہم غور کررہے ہیں۔ میں نے آج اس بارے میں اپنے اتحادیوں اور پارٹنرز سے تبادلۂ خیال کیا۔ اور ہم اس پر مزید بات چیت جاری رکھیں گے۔ جب میں نے کہا ہے کہ اور بھی کئی اقدامات زیرِغور ہیں اور کوئی بھی ایسا اقدام نہیں ہے جس پر بحث نہ کی جارہی ہو۔ اور نو فلائی زون بھی ایسا ہی ایک اقدام ہے جس پر غور کیا جا رہا ہے‘۔

اس سوال پر کہ کیا امریکہ کرنل قذافی کی جلاوطنی کی حمایت کرے گا ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ’اگر ان کے جلاوطن ہونے سے تشدد ختم ہوتا ہے تو یہ ایک اچھا قدم ہوگا لیکن ہمارا ماننا ہے کہ انہوں نے جو کیا ہے اس کا حساب لیا جانا چاہیے‘۔

امریکی صدر براک اوباما نے بھی پیر کو اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی جس میں لیبیا میں بڑھتے تشدد پر تشویش ظاہر کی گئی۔ اس موقع پر بان کی مون کا کہنا تھا کہ کرنل قذافی نے ’حکومت کرنے کا حق اسی وقت کھو دیا جب انہوں نے اپنے عوام کے خلاف جنگ شروع کی‘۔

لیبیا میں مظاہرے: تصاویر

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

طرابلس پر کنٹرول

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

اطلاعات کے مطابق کرنل قذافی کی حامی فورسز نے سوموار کو زاویہ، مسراتا اور نالوت کو دوبارہ قبضے میں لینے کی کوشش کی ہے لیکن باغی فوجیوں نے اسے ناکام بنا دیا ہے۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے قذافی کی حامی ملیشیا کے آٹھ افراد ہلاک کر دیے ہیں۔ تاہم ابھی حکومت نے ہلاکتوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔

طرابلس سے دو سو کلومیٹر مشرق میں مسراتا نامی قصبے سے لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ طرابلس کے پچاس کلومیٹر مغرب میں زاویہ نامی شہر پر حکومت مخالف عناصر کا قبضہ ہے تاہم شہر کے اردگرد قذافی کی حامی افواج موجود ہیں۔

زاویہ کے ایک رہائشی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’ہمیں کسی بھی لمحے حملے کا خطرہ ہے۔ وہ بڑی تعداد میں موجود ہیں‘۔ لیبیائی فضائیہ کے طیاروں نے اجدابیہ اور رجمہ میں اسلحہ خانوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

لیبیا کے مشرقی علاقے میں مظاہرین نے مختلف قصبوں پر قبضہ کیا ہے لیکن دارالحکومت طرابلس اور اس کے گردونواح میں کرنل قذافی کا زور ٹوٹتا دکھائی نہیں دے رہا۔

،تصویر کا ذریعہReuters

طرابلس کے نواح میں تجورا کے مقام پر چار سو افراد نے پیر کو کرنل قدافی کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ’ شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا‘۔ اطلاعات کے مطابق کرنل قدافی کے حامیوں نے ہوائی فائرنگ کر کے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔

نامہ نگاروں کے مطابق دارالحکومت میں بینکوں پر لوگوں کی طویل قطاریں دیکھی گئی ہیں جاں لوگ پانچ سو دینار کی وہ رقم لینے کے لیے جمع ہوئے جس کا وعدہ حکومت نے کیا ہے۔ حکومت کی اس کوشش کو بےچینی ختم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

لیبیا کے نائب وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ حکام مشرق میں موجود مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش کریں گے لیکن ’اگر بات چیت کی تمام کوششیں ناکام رہیں تو بین الاقوامی قوانین کے مطابق طاقت کا استعمال کیا جائے گا‘۔

امریکہ کا امتحان

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

(بی بی سی کے شمالی امریکہ کے مدیر مارک مارڈل کا لیبیا کے خلاف امریکی پابندیوں پر بلاگ)

وائٹ ہاؤس میں امریکی شہریوں کے لیبیا میں یرغمال بنائے جانے کے امکان پر بہت تشویش پائی جا رہی تھی۔ اس تشویش کی جڑیں تاریخ کے واقعات میں پائی جاتی ہیں۔

حالیہ چند روز کے محتاط رویے کے پیچھے ماضی میں ایران میں پیش آنے والے واقعات کا تجربہ تھا۔ لیکن اب جبکہ زیادہ تر امریکی شہری غالباً لیبیا سے نکل چکے ہیں، امریکی سفارتخانہ بند ہو چکا ہے اور سفارتکار واپس آ گئے ہیں، امریکی لب و لہجہ سخت ہو گیا ہے اور ٹھوس اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے نئے ترجمان جے کارنے نے کہا ہے کہ کرنل معمر قذافی لیبیا کی عوام میں ساکھ بالکل کھو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ لیبیا کے خلاف یکطرفہ پابندیوں کا اعلان کرے گا۔ ان کے اس بیان کے چند ہی گھنٹوں کے بعد امریکہ کے صدر براک اوباما نے ایک انتظامی حکمنامے پر دستخط کر دیے جس کے تحت کرنل قذافی اور ان کے خاندان کے کچھ افراد کے اثاثے منجمند کر دیے گئے۔

امریکہ کی خواہش ہے کہ دیگر ممالک خاص طور پر یورپی یونین کے ارکان بھی اسی طرح کے اقدمات کریں گے۔ لیکن کچھ لوگ امریکہ کی اس خواہش کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ایسے لوگ ماضی میں سربیا کی مثال کو سامنے رکھتے ہیں نہ کہ روانڈا کی۔

امریکہ میں جان مکین اور خاص طور پر رپبلکن پارٹی کے کئی ارکان سمیت بہت سے سیاستدانوں نے صدر اوباما سے لیبیا کے خلاف زیادہ سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان مطالبات میں لیبیا کے خلاف فضائیہ کے استعمال کا مطالبہ بھی شامل ہے تاکہ کرنل قذافی اپنے لوگوں کے خلاف فضائی طاقت استعمال نہ کر سکیں۔

وائٹ ہاؤس نے کسی چیز کو خارج از امکان قرار نہیں دیا لیکن صدر اوباما اس طرح فوجی طاقت کے استعمال کے حق میں نہیں ہوں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے امتحان کی گھڑی ہے جو لبرل نظریات کی ترویج کے لیے فوجی مداخلت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے بھی امتحان کی گھڑی ہے جو اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ جب بھی ممکن ہو مغرب کو دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس ویسٹ پوائنٹ فوجی اکیڈمی میں کیڈٹوں سےخطاب کرتےہوئے کہہ چکے ہیں کہ آئندہ کوئی ذہنی طور پر معذور صدر ہی تیسری دنیا کے کسی ملک پر فوجی چڑھائی کا فیصلہ کرے گا۔ ظاہر ہے کوئی لیبیا کے بارے میں اس طرح کی بات نہیں کر رہا۔ لیکن وائٹ ہاؤس ایسے ہی تاریخی پس منظر کی وجہ سے پس و پیش کا شکار ہے کہ وہ بہت زیادہ یا بہت کم کارروائی نہ کرے۔