’نوفلائی زون کا فیصلہ امریکہ نہیں اقوام متحدہ کرے‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ لیبیا کی فضائی حدود کو بند کرنے کا فیصلہ امریکہ کی طرف سے نہیں اقوام متحدہ کی طرف سے ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات بہت اہم ہے کہ اس طرح کی کوئی بھی پیش رفت لیبیا کی عوام کی اپیل پر عالمی برادری کی حمایت سے ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف امریکہ کا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔
امریکہ کے صدر براک اوباما نے برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون سے ٹیلی فون پر بات چیت میں لیبیا کے مسئلے کو جلد از جلد ختم کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں کے دفاتر سے جاری ہونے والے بیانات کے مطابق، انہوں نے لیبیا کو نو فلائی زون، یعنی پروازوں کے لیے ممنوعہ خطہ قرار دینے پر بات چیت کی تاکہ صدر قذافی کی فضائیہ کو مخالفین پر بمباری کرنے سے روکا جا سکے۔
اس کے علاوہ جھڑپوں سے متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانے، لیبیا کی فضائی نگرانی بڑھانے اور صدر قذافی کی حکومت پر اسلحہ خریدنے کی پابندی عائد کرنے کے معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔ امریکی صدر سے بات چیت کے بعد برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ بین الاقوامی برادری باہر بیٹھ کر ہرگز یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ لیبیا کے صدر اپنے عوام پر ظلم و ستم جاری رکھیں۔
برطانیہ اور فرانس، نو فلائی زون سمیت، لیبیا کے خلاف عملی فوجی اقدامات کے لیے ایک قرارداد پر کام کر رہے ہیں، جس کے اسی ہفتے کے دوران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ سلامتی کونسل کا اہم رکن روس، ہر طرح کی فوجی مداخلت کی مخالفت کا اعلان کر چکا ہے۔ لیکن سعودی عرب میں او آئی سی، یعنی مسلم ممالک کی تنظیم، آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس کے ایک ہنگامی اجلاس میں، تنظیم کے ترجمان نے لیبیا کو نو فلائی زون قرار دینے کی حمایت کی ہے البتہ انہوں نے بین الاقوامی بری فوج کی مداخلت کو یکسر مسترد کیا۔
او آئی سی کے سیکرٹری جنرل اکمل الدین نے کہا کہ بہت جلد او آئی سی کا وزراء اجلاس بلانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں تاکہ لیبیا کے خلاف بین الاقوامی کارروائی کے لیے اقوامِ متحدہ کو اپنی تجاویز دے سکیں۔
ادھر لیبیا میں بظاہر باغی جنگجوؤں کی صورتحال کمزور ہو رہی ہے۔ راس لانوف اور زاویہ پر صدر قذافی کی فوج کا غلبہ ہے کیونکہ فوج نے بھرپور فضائی اور بری حملے کیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرنل قذافی کی فوج نے باغیوں کے قبضے میں شہرزاویہ پر ٹینکوں اور توپخانے کے حملے جاری رکھے۔ شہر سے بھاگ کر آنے والے ایک رہائشی نے بتایا کہ انہوں نے پچاس کے قریب ٹینک اور درجنوں پک اپ ٹرک دیکھے تھے جن میں کرنل قذافی کے حامی سوار تھے۔
باغیوں کی طرف سے قائم کی جانے والی قومی کونسل کے سربراہ ملک کے سابق وزیر انصاف مصطفیٰ عبدالجلیل نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے کچھ وکلاء کی طرف سے کرنل قذافی کے ساتھ معاہدہ کروانے کی پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے۔ عبدالجلیل کے مطابق یہ وکلاء کرنل قذافی کی اقتدار سے دستبرداری کی ممکنہ شرائط کے بارے میں بار کرنا چاہتے تھے لیکن انہوں نے اس پیشکش کو رد کر دیا۔
طرابلس میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کرنل قدافی کے حامیوں کا خیال ہے کہ انہیں خاطرخواہ فوجی کامیابیاں ہوئی ہیں اور انہوں نے ملک کے مغربی حصوں میں اپنا کنٹرول مضبوط کیا ہے۔
لیبیا کی کابینہ کے ایک مشیر یوسف شاکر نے بی بی سی کو بتایا کہ لیبیا کی فوج نے پہلے بار ملک کے شہروں کو باغیوں سے صاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منگل کو بھاری اسلحے کی مدد سے باغیوں کی ملک کے شمالی ساحل کے ساتھ پیشرفت روک دی ہے۔
نامہ نگاروں کے مطابق کرنل قذافی اس صورتحال میں دکھائی نہیں دیتا کہ مذاکرات کی میز پر آئیں گے اور سمجھوتے کے لیے تیار ہوں گے۔




















