’اقوامِ متحدہ کو طرابلس آنے کی اجازت مل گئی‘

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ لیبیا نے عالمی تنظیم کی ٹیم کو لیبیا میں آنے کی اجازت دے دی ہے تاکہ ملک میں جاری مسلح تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحران کا جائزہ لے سکے۔

پیر کو لیبیا میں شدید لڑائی جاری رہی اور اطلاعات کے مطابق کرنل قذافی کی افواج نے بن غآزی کے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

اتوار کو کرنل معمر قذافی کے مخالفین ان کی فوج کے حملوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ باغیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے شدید لڑائی کے بعد زاویہ سے کرنل قذافی کی فوج کو نکال دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کو رسائی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ لیبیا نے اس کی ٹیم کو لیبیا میں آنے کی اجازت دے دی ہے تاکہ ملک میں جاری مسلح تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحران کا جائزہ لیا جا سکے۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ پہلے یہ ٹیم دارالحکومت طرابلس جائے گی۔ اقوام متحدہ کے ہنگامی صورتحال کے لیے رابطۂ کار ویلری ایموس نے کہا ہے کہ لیبیا کے شہر مصراتہ میں، جہاں کرنل معمر قذافی کے حامیوں اور مخالفین میں لڑائی ہو رہی ہے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری رسائی دی جائے۔

ایموس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طبی عملہ اور ادویات فوری طور پر درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی لیبیا میں ہلالِ احمر ادویات اور ایمبولینس پہنچانے میں ناکام رہی ہے۔

دوسری جانب کرنل قذافی نے کہا ہے کہ لیبیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اور مغرب کا ساتھی ہے اور تارکینِ وطن کی یورپ میں داخلے کو روکنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

فرانس کے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ ان کے امریکہ اور یورپی یونین کے شاتھ روابط جو بڑے اچھے تھے اب تبدیل ہو گئے ہیں۔

انہوں نے غیر ملکی میڈیا پر الزام عائد کیا کہ وہ لیبیا کی خبروں کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب مخالفین کی نیشنل لیبیا کونسل کا کہنا ہے کہ وہ حکومت سے اس وقت تک مذاکرات نہیں کریں گے جب تک کرنل قذافی اقتدار سے نہیں ہٹ جاتے۔

کونسل نے یہ بات اس وقت کہی جب لیبیا کے سابق وزیر اعظم نے قومی مذاکرات کی تجویز دی تھی۔

مصراتہ میں لڑائی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

اتوار کو لیبیا میں شدید لڑائی جاری رہی جہاں کرنل معمر قذافی کے مخالفین ان کی فوج کے حملوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ باغیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے شدید لڑائی کے بعد زاویہ سے کرنل قذافی کی فوج کو نکال دیا ہے۔

اسی طرح ملک کے مشرق میں لیبیا کی فوج مصراتہ میں داخل ہو گئی تھی لیکن اسے بعد میں وہاں سے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ ساحلی شہر بن جواد میں حکومتی فوج کی طرف سے بھاری گولہ باری کے نتیجے میں باغیوں نے پسپائی اختیار جو سنیچر کو شہر پر قابض ہو گئے تھے۔

کرنل قذافی کی ملک پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں کے دوران طرابلس ان کا گڑھ رہا ہے۔ باغیوں نے اس دوران ملک کے زیادہ تر مشرقی حصوں اور مغرب میں طرابلس کے قریب کچھ شہروں پر قبضہ کر لیا ہے۔

اتوار کو شدید ترین لڑائی کی اطلاعات طرابلس سے دو سو کلومیٹر دور مشرق میں مصراتہ سے ملیں جہاں ایک مقامی ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومتی فوج کی طرف سے شہر میں داخل ہو کر ٹینکوں اور توپخانے کی گولہ باری کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔

ڈاکٹر نے بتایا کہ حکومتی فوج نے مسلح اور غیر مسلح افراد کی تفریق کے بغیر حملہ کیا۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا کہ پانچ گھنٹے کی لڑائی کے بعد قذافی کے حامی پسپا ہونے پر مجبور ہوئے اور اس دوران کم سے کم اٹھارہ لوگ مارے گئے۔

شہر کے ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ قذافی کی فوج کی پسپائی کے بعد شہر میں خوشی منائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی فوج کا ایک ٹینک بھی تباہ ہوا اور سولہ فوجی ہلاک ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ فوجی پکڑے بھی گئے ہیں جن سے پیر کو پوچھ گچھ ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر قذافی کے فوجی واپس آئے تو وہ آخری گولی اور آخری سانس تک لڑیں گے۔ مصراتہ کی آبادی تین لاکھ ہے اور یہ باغیوں کے قبٰضے میں ملک کے مشرقی حصوں کے باہر سب سے بڑا شہر ہے۔

دریں اثناء باغیوں نے کہا کہ وہ حکومتی فوج کےحملے کے بعد بن جواد سے پسپاء ہونے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ان پر سڑک کے کناروں سے بم پھینکے گئے اور فائرنگ کی گئی۔ حکومتی فوج کی طرف سے حملوں میں شدت کے ساتھ ساتھ باغیوں کو اب تیل کی کمی کا بھی سامنا ہے۔

برطانوی کمانڈوز رہا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

برطانیہ کے دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ مشرقی لیبیا میں دو روز پہلے حراست میں لی گئی برطانوی سفارتی ٹیم کو رہا کر دیا گیا ہے۔

بی بی سی کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق رہا ہونے کے بعد سفارتی ٹیم بن غازی سے روانہ ہو گئی ہے اور برطانوی بحریہ کی جنگی کشتی ایچ ایم ایس کمبرلینڈ میں سوار ہو گئی ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ ایک برطانوی سفارت کار جو حکومت مخالف رہنماؤں سے رابطے کر رہے تھے اور ان کے ہمراہ چھ برطانوی کمانڈوز بھی تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سفارتی ٹیم کو جمعہ کے دن اس وقت حزب مخالف نے حراست میں لے لیا جب وہ ایک ہیلی کاپٹر میں بن غازی کے نزدیک ایک جگہ پر پہنچے تھے۔

ان کو اس وقت گرفتار کیا گیا جو لیبیا کے سکیورٹی گارڈز کے معلوم ہوا کہ ان کے پاس، ہتھیار، اسلحہ، دھماکہ خیز مواد، نقشے اور کم از کم چار مختلف شہریت کے پاسپورٹ تھے۔

برطانوی سکیرٹری خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی ٹیم کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم اب اس کو اطمینان بخش طریقے سے حل کر لیا گیا ہے۔

اس سے پہلے برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کے مطابق آٹھ برطانوی کمانڈوز سادہ لباس میں ملبوس تھے لیکن ان کے پاس اسلحہ تھا۔ یہ کمانڈوز ایک برطانوی سفارتکار کے ساتھ مشرقی لیبیا میں حکومت مخالف رہنماؤں سے ملاقات کے لیے گئے تھے۔

جنیوا کی ہیومن رائٹس سالیڈیریٹی گروپ نے کہا تھا کہ وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ کمانڈوز کو حکومت مخالف لوگوں نے حراست میں لے لیا ہے لیکن ان کو اس بات کا معلوم نہیں کہ یہ کمانڈوز کس ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس سے قبل برطانوی وزارتِ داخلہ نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ سکاٹ لینڈ کی فوجیں لیبیا سے انخلاء کے آپریشن میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔

دریں اثناء ہالینڈ کے سپیشل فورسز کے دستے کو لیبیا کی فوج نے مغربی لیبیا میں میں اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ ہالینڈ کے شہریوں کے انخلاء کے آپریشن میں شامل تھے۔