لیبیا میں لڑائی پھر شدید

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
لیبیا میں صدر کرنل معمر قذافی کی حامی فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی ہے اور باغی تیل کی پیداوار کے لیے مشہور شہر بریقہ پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شہر کے مضافات میں قائم یونیورسٹی پر باغیوں نے قبضہ کر لیا ہے۔
گزشتہ رات مصراتہ شہر پر دوبارہ بمباری کی گئی۔ مصراتہ لیبیا کا تیسرا بڑا شہر ہے اور گزشتہ کئی ہفتوں سے حکومتی فوج نے اس کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ طرابلس کے مغرب میں واقع اس شہر کو باغیوں کا بن غازی کے بعد ایک اہم گڑھ خیال کیا جاتا ہے۔
جمعہ کو بریقہ اور اجدابیہ کے درمیان اتحادی فوج کے ایک فضائی حملے میں کم از کم تیرہ باغی ہلاک ہو گئے تھے۔
باغیوں کے سرکردہ افراد نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ غیر منظم باغی گروپوں نے طیارہ شکن توپ سے ہوا میں فائرنگ شروع کر دی تھی جس سے اتحادی فضائی طیاروں نے اس پر حملہ کر دیا۔
حزب اختلاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ باغی گروہوں میں پیشہ وارنہ انداز پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
محاذ جنگ کی طرف جانے والے راستوں پر چوکیاں قائم کی جا رہی ہیں اور ان چوکیوں سے آگے انہی لوگوں کو جانے کی اجازت دی جا رہی ہے جن کو جنگ تربیت حاصل ہے۔
دارالحکومت طرابلس سے مشرق کی سمت آٹھ سو کلو میٹر کی دوری پر واقع بریقہ شہر گزشتہ کئی دنوں سے شدید جنگ کا میدان بنا ہوا ہے۔ باغیوں نے ہفتے کو بریقہ پر قبضہ حاصل کرنے کا دعوی کیا تھا لیکن قذافی کے حامی بندوق بردار ابھی شہر میں موجود ہیں اور قذافی کی حامی فوجی شہر کے باہر یونیورسٹی میں مورچہ بند ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے ایک نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ اتوار کی صبح باغیوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے یونیورسٹی پر قبضہ کر لیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے مصراتہ کے ایک رہائشی کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اتوار کو قذافی کی حامی فوج نے مصراتہ شہر میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا جس میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہو گیا۔
الجزیرہ ٹی وی چینل نے عینی شاہدین کے حوالے سے اطلاع دی کہ طرابلس سے جنوب مغرب میں پہاڑی علاقے میں واقع شہر یافران پر بھی کرنل معمر قذافی کی حامی فوج نے بمباری کی ہے۔
بن غازی میں موجود بی بی سی کے نمائندے نے کہا ہے کہ لیبیا میں گزشتہ چھ ہفتوں سے جاری لڑائی میں ابھی تک یہ کہنا مشکل ہے کہ اس سیاسی اور جنگی تعطل میں کون برتری حاصل کرے گا۔
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فریقین میں سے کوئی بھی اتنا طاقت ور دکھائی نہیں دیتا کہ وہ فوجی لہذا سے برتری حاصل کر سکے یا اس قدر کمزور ہو کہ اسے مذاکرات پر مجبور کیا جا سکے۔
عبوری نیشنل کونسل کی ایک ترجمان امام بغدیس نے بی بی سی ورلڈ سروس کو بتایا کہ باغی اپنی قوت میں اضافہ کرکے کرنل قذافی کو شکست دینے کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے ورلڈ ٹو ڈے پروگرام کو بتایا کہ ’ہم نے اپنی افواج کو منظم کر لیا ہے اب باقاعدہ فوج ہراول دستوں میں ہیں جبکہ ان کے پیچھے رضاکار ہیں۔‘




















