نیٹو کانفرنس میں لیبیا سر فہرست

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, حسن کاظمی
- عہدہ, بی بی سی اردو، برلن، جرمنی
نیٹو کے اٹھائیس رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی دو روزہ کانفرنس آج سے جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ہورہی ہے جہاں اس بات کا قوی امکان ہے کہ لیبیا کامسئلہ گفتگو کا سب سے اہم محور ہوگا۔
اس کانفرنس میں امریکہ کی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن ، برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ ، فرانس کے وزیرِ خارجہ ایلن یوپے سمیت نیٹو کے تمام اٹھائیس رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے جب کہ جرمنی کے وزیرِ خارجہ ویستر ویلے اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرے راسموسن مشترکہ طور پر اس کانفرنس کی میزبانی کررہے ہیں۔
اس کانفرنس میں شرکت کے لیے قطر ، متحدہ عرب امارات ، اردن اور کویت کے وفود کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب لیبیا کے معاملے پر نیٹو کے رکن ممالک میں واضع اختلافات سامنے آئے ہیں۔ برطانیہ اور فرانس اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ لیبیا میں نیٹو کو اپنی کارروائیوں کا دائرہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔
تاہم جرمنی کا کہنا ہے کہ لیبیا کے مسئلے کا فوجی نہیں بلکہ سیاسی حل ڈھونڈا جائے۔ جرمنی کے وزیرِ خارجہ گیڈو ویستر ویلے کے مطابق لیبیا کے مسئلے پر سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے وسیع پابندیاں عائد کی جانی چاہییں تاکہ کرنل قذافی کی حکومت پر دباؤ بڑھایا جاسکے۔
گزشتہ روز دوحہ میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل راسموسن نے کہا تھا کہ لیبیا کے مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور ہمیں سیاسی عمل کو متحرک کرنا ہوگا۔
جرمنی اور ترکی پہلے دن لیبیا میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلے کے خلاف رہے ہیں اور جرمنی نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی اس میٹنگ میں شرکت نہیں کی تھی جس میں لیبیا کے مسئلے پر فوجی مداخلت کے حق میں ووٹنگ ہوئی تھی۔
گزشتہ روز جرمنی نے برلِن میں موجود لیبیا کے پانچ سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا جن پر الزام تھا کہ انہوں نے جرمنی میں رہنے والے جلاوطن افراد دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کانفرنس کا ابتدائی ایجنڈا یہ تھا کہ نیٹو کے ساتھ دیگر علاقائی منصوبہ میں شامل شریک دیگر ممالک جن خلیجی ممالک کی تعاون تنظیم ، میڈیٹرینین ڈائیلاگ کے تحت شمالی افریقہ کے ممالک کے علاوہ پاکستان ، ہندوستان اور چین سے مزید تعاون بڑھانا شامل تھا۔
اس کے علاوہ افغانستان میں سیکیورٹی کا کنٹرول نیٹو کے ارکان اور ایساف ممالک سے لے کر بتدریج افغان نیشنل آرمی اور افغان نیشنل پولیس کے سپرد کیے جانے کے بارے میں اوقات کار کا تعین کرنا شامل تھا۔
نیٹو ممالک دوہزار چودہ کے آخر تک اپنی افواج افغانستان سے نکال کر سارا سیکیورٹی کا انتظام افغان نیشنل آرمی کے سپرد کرنا چاہتے ہیں اور افغان حکومت نے اس ضمن میں پہلے مرحلے میں کچھ شہروں اور صوبوں کے ناموں کا اعلان بھی کیا ہے جو افغانستان کی فوج اور پولیس کے کنٹرول میں دیے جائیں گے تاہم اس عمل میں ابھی کئی رکاوٹیں حائل ہیں جس میں سب سے اہم افغانستان کی پولیس اور فوج کے اندر صلاحیت کی کمی ہے۔
اس کانفرنس کے دوسرے روز نیٹو کے اٹھائیس رکن ممالک کے وزرائے خارجہ روس کے وزیرِخارجہ سےبھی ملاقات کررہے ہیں جس میں یورپ کے مشترکہ دفاعی میزائل پروگرام اور افغانستان میں تعاون پر بھی بات کی جائے گی۔
کانفرنس کی وجہ سے برلِن میں سیکورٹی سخت کردی گئی ہے اور شہر کی کئی اہم شاہراہوں کو بند کردیاگیا ہےجس سے کئی سیاحتی مقامات تک رسائی بھی مشکل ہوگئی ہے۔




















